سرحدوں پر درپیش دفاعی چیلنجز کی رپورٹ سینیٹ میں پیش

شائع 19 نومبر 2016 06:18am

 

اسلام آباد: بھارت اور افغانستان کی طرف سے سرحدوں پر درپیش دفاعی چیلنجز کی رپورٹ پارلیمنٹ کے ایوان بالا سینیٹ میں پیش کردی گئی۔

رپورٹ  کے مطابق بھارت کی طرف سے 3  انداز میں جارحیت کا امکان مدنظر رکھ مؤ ثر دفاعی حکمت عملی مرتب کی گئی ہے۔

دفاعی چیلنجز کی رپورٹ کو دفاع اور خارجہ امور کی قائمہ کمیٹیوں نے مشترکا طور سینیٹ میں پیش کیا۔

اس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں موجود بھارتی فوج کا 60 فیصد تک عملہ اگلے محاذوں پر متعین رکھا جارہا ہے۔  بھارتی فوج کی ایک اضافی ڈویژن بھی مقبوضہ کشمیر متعین ہوئی ہے، وہاں سخوئی تھرٹی طیارے بھی موجود ہیں ۔

 پاک فوج کو اندازہ ہے کہ بھارت ممکنہ طور پر پاکستان میں سافٹ اور ہائی ویلیو ٹارگٹ  نشانہ بناسکتا ہے۔  وہ براہ راست زمینی اور فضائی کارروائی بھی کرسکتا ہے، دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کیلئے فوج مکمل الرٹ ہے۔فضائیہ کی تمام ایئربیسز اور بحریہ بھرپور متحرک ہیں ۔

 رپورٹ میں کہاگیاہےکہ دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کے آپریشن خیبر تھری کی وجہ سے افغان سرحد سے پاکستان میں خلاف ورزیاں بڑھیں ہیں ۔

اگست سے جاری اس آپریشن کے بعد 86 بار سرحدی مداخلت ہوئی۔جنوبی وزیرستان میں 16 اکتوبر کو دو فوجیوں کی شہادت ایسی ہی ایک مداخلت کا نتیجہ تھی۔

 سینیٹ کو بتایاگیا ہے کہ طالبان محدود کرنے کی پاکستانی حکمت عملی سے افغان مصالحت کو فائدہ ملا ہے، افغان حکومت اور حکمتیار گروپ میں مفاہمت اسی سلسلہ کی کڑی تھی ۔

Read Comments