Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
آج بیسویں صدی کے عظیم ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض کا یوم وفات ہے۔
بر صغیر کے اس عظیم شاعر نے13 فروری 1911 کوبمقام سیالکوٹ آنکھ کھولی ۔
اردو ادب کے ناقدین غالب اور اقبال کے بعد فیض کو اردو کا سب سے بڑا شاعر مانتے ہیں ۔
فیض کے کلام کا دھیما پن ان کے اسلوب کی نمایاں خصوصیت ہے۔
فیض ترقی پسند تحریک کے فعال رکن تھے ، لینن ایوارڈ بھی ملا، ایم اے او کالج امرتسر میں لیکچرر رہے ، فوج میں بطور کیپٹن محکمہ تعلقات عامہ میں کام کیا ۔
لیفیٹنٹ کرنل کے عہدے پر ترقی پائی ،مختلف اخبارات اور ادبی رسالوں سے وابستہ رہے ۔
فیض احمد فیض کو9 مارچ 1951ون کو روالپنڈی سازش کیس میں گرفتار کیا گیا ۔چار سال بعد 1955میں رہائی ملی ۔
جب بیرون ملک تھے تو وہاں بھی یارانے سخن کے ساتھ خوب محفلیں جمتی رہیں اور دوست فیض سے فیض اٹھاتے رہے ۔
فیض احمد فیض کے ہاں غم جاناں اور غم دوراں ایک ہی پیکر میں یکجا ہیں ان کا رومانوی رنگ ایک منفرد لہجے کا حامل ہے۔
ناانصافی اور جبر کے خلاف آواز بلند کرنے والا یہ شاعر 20 نومبر 1984 کو لاہور میں خالق حقیقی سے جاملا لیکن ان کے لکھے اشعار کی گونج آج بھی تابندہ ہے۔