سندھ طاس معاہدہ:ورلڈبینک نےپاکستان، بھارت کی درخواستوں پرعمل روک دیا

اپ ڈیٹ 13 دسمبر 2016 09:28am

نیویارک:ورلڈ بینک نے سندھ طاس معاہدے پر بھارت اور پاکستان کی الگ الگ درخواستوں پر عمل روک دیا۔

عالمی بینک کے صدر جم یونگ کم کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے وزرائے خزانہ کو لکھے  گئے خط میں آگاہ کیا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے غیر جانبدار کا تقررفی الحال روکا جارہا ہے۔

عالمی بینک کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت دونوں ممالک تنازعے کے حل کیلئے متبادل ذرائع کے بارے میں غورکریں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ فریقین آئندہ سال جنوری کے آخر تک کسی نہ کسی نتیجے پرپہنچ جائیں گے انہوں نےدونوں ملکوں سے کہا کہ ایسے اقدام سے گریز کریں جس سے سندھ طاس معاہدے پراثرپڑے۔

پاکستان نے  بھارت کی دریائے سندھ پردو ہائیڈروالیکٹرک  پاور پلانٹ کی تعمیر کے معاملے پرثالثی کورٹ کا چئیرمین جبکہ بھارت نے غیر جانبدار ماہرکی تعیناتی کی درخواست کی تھی ۔

پاکستان نے دریائے چناب پر330میگاواٹ کے کشن گنگا ڈیم اور850میگاواٹ کے ریٹل ہائیڈرو پاور پلانٹ کی تعمیر پر اعتراض اٹھائے ہیں۔

 پاکستان کا مؤقف ہے کہ بھارت کے بعض منصوبے ایسے ہیں جومستقبل میں پاکستان کو اس کے حصے کے پانی سے بھی محروم کردیں گے۔

 دوسری طرف بھارت کا کہنا ہے کہ جن منصو بوں پر وہ کام کررہا ہے  وہ دراصل پانی  ذخیرہ کرنے کی صلاحیت  نہیں رکھتے بلکہ بہتے پانی سے بجلی پیدا کرنے کے منصونے ہیں جو سندھ طاس کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتے۔

Read Comments