Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
اسلام آباد:پارلیمنٹ کے سینیٹ نے پاناما اسکینڈل کے تحقیقاتی کمیشن کیلئے اپوزیشن کا قانونی بل حکومتی مخالفت کے باوجود کثرت راۓ سے منظورکرلیا ۔ بل کی منظوری کے دوران شورشرابا مچا رہا، چئیرمین میاں رضاربانی مشکل سے صورتحال پر قابو پاتے رہے۔سینیٹ اجلاس میں پاناما کمیشن کا بل انتالیس اراکین دستخط سے قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے پیش کیا ، قائد ایوان راجہ ظفرالحق نے اس کی منظوری کے عمل کی مخالفت کی اور کہا کہ اپوزیشن نے اس بل پر کمیٹی میں مزید بات کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی ، اب وقت نہیں دیا جا رہا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون سازی میں کچھ اخلاقی اقدار بھی ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاناما پیپرز بل کو سلیکٹ کمیٹی میں بھجوایا جائے تو بہتر ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ میں نے ایسا کام نہیں کیا جس پر کہنا پڑے کہ یہ تو سیاسی بیان تھا۔ انہوں نے کہا مزید کہ حکومت نے جی جی بریگیڈ بنایا ہوا ہے ،کمیشن کیلئے بل قائمہ کمیٹی سے ہو کر آ چکا ہے، اب یہ ایوان کی پراپرٹی ہے۔بحث کے دوران حکومتی رکن مشاہداللہ خان نے کہا کہ حکومت نے بد دیانتی نہیں کی۔ یہ بد دیانتی انہوں نے کی جنہوں نے سکھوں کی لسٹیں دی تھیں ۔مشاہداللہ کی اس بات پر ایوان میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ دونوں اطراف کے ارکان ایک دوسرے پر جملے کستے رہے، شور اتنا تھا کہ کسی کو کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ چئیرمین نے مشکل سے صورتحال کو سنبھالا، اس کے بعد ایوان نے انکوائری کمیشن بل کو کثرت رائے سے منظور کرلیا۔
اسلام آباد:پارلیمنٹ کے سینیٹ نے پاناما اسکینڈل کے تحقیقاتی کمیشن کیلئے اپوزیشن کا قانونی بل حکومتی مخالفت کے باوجود کثرت راۓ سے منظورکرلیا ۔ بل کی منظوری کے دوران شورشرابا مچا رہا، چئیرمین میاں رضاربانی مشکل سے صورتحال پر قابو پاتے رہے۔
سینیٹ اجلاس میں پاناما کمیشن کا بل انتالیس اراکین دستخط سے قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے پیش کیا ، قائد ایوان راجہ ظفرالحق نے اس کی منظوری کے عمل کی مخالفت کی اور کہا کہ اپوزیشن نے اس بل پر کمیٹی میں مزید بات کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی ، اب وقت نہیں دیا جا رہا ۔
انہوں نے مزید کہا کہ قانون سازی میں کچھ اخلاقی اقدار بھی ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاناما پیپرز بل کو سلیکٹ کمیٹی میں بھجوایا جائے تو بہتر ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ میں نے ایسا کام نہیں کیا جس پر کہنا پڑے کہ یہ تو سیاسی بیان تھا۔
انہوں نے کہا مزید کہ حکومت نے جی جی بریگیڈ بنایا ہوا ہے ،کمیشن کیلئے بل قائمہ کمیٹی سے ہو کر آ چکا ہے، اب یہ ایوان کی پراپرٹی ہے۔
بحث کے دوران حکومتی رکن مشاہداللہ خان نے کہا کہ حکومت نے بد دیانتی نہیں کی۔ یہ بد دیانتی انہوں نے کی جنہوں نے سکھوں کی لسٹیں دی تھیں ۔مشاہداللہ کی اس بات پر ایوان میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔
دونوں اطراف کے ارکان ایک دوسرے پر جملے کستے رہے، شور اتنا تھا کہ کسی کو کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ چئیرمین نے مشکل سے صورتحال کو سنبھالا، اس کے بعد ایوان نے انکوائری کمیشن بل کو کثرت رائے سے منظور کرلیا۔