Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
قومی احتساب بیورو(نیب) نے سابق سیکریٹری خزانہ بلوچستان مشتاق رئیسانی سے دوارب روپے مالیت کی رقم واپس لے لی۔
نیب کا کہنا ہے کہ ملزمان سے مجموعی طورپر تین ارب پچیس کروڑروپے وصول کرنے کے بعد بلوچستان حکومت کو دے دیے جائیں گے۔
جمعرات کو مشتاق رئیسانی کی پلی بارگین سے متعلق نیب کے ڈی جی آپریشنز ظاہر شاہ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ رئیسانی رقم خرد برد کرنے اورفرارہونے کی اطلاع پرچھاپے میں رنگ ہاتھوں گرفتار ہوئے۔
ڈی جی آپریشنزنے برآمد ہونے والی رقم اورجائداد کی تفصیلات بتائیں اور کہا سوا تین کلوسونا، کراچی اورکوئٹہ میں 13کروڑروپے کی جائیداد ،80 لاکھ روپے مالیت کی دوکاریں، 65 کروڑ 32 لاکھ روپے کیش اور96 کروڑروپے کے اکاونٹس سرینڈرہوئے۔
ڈی جی آپریشنز نے بتایا کہ کیس کے دوسرے ملزم سہیل مجید سے چھیانوے کروڑبرآمد ہوئے اور ان کے اکاونئٹ بھی منجمد ہیں۔
ظاہرشاہ نے کہا کہ پلی بارگیننگ کے تحت ملزم جیل نہیں جاتا،باقی تمام سزائیں لاگوہوتی ہیں اوروہ سرکاری ملازمت کا اہل بھی نہیں رہتا۔