پاکستان اور بھارت میں جوہری تنصیبات سے متعلق فہرستوں کا تبادلہ

شائع 01 جنوری 2017 04:22pm

اسلام آباد: نئے سال کا پہلا دن چڑھتے ہی پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلا روایتی سفارتی رابطہ ہوا ہے، ضابطے کے تحت دونوں ممالک کی سویلین جوہری تنصیبات اور قیدیوں کی فہرستوں کا باہمی تبادلہ کیا گیا ہے ۔

سال  انیس سو اٹھاسی میں طے پانے والے معاہدے کے مطابق پاکستان اوربھارت نے ہر نئے سال کے آغاز پر سویلین جوہدری تنصیبات کی تفصیلات کا تبادلہ کرنا ہوتا ہے، اس اقدام کا مقصد  تنازعہ کی صورت میں غلط فہمی کے امکان کو کم رکھنا ہے۔

دونوں ملک اس کے ساتھ ایک دوسرے کے شہری قیدیوں کی فہرستوں کا بھی باہم تبادلہ کرتے ہیں جو مختلف وجوہات کے باعث قید ہیں ، قیدیوں کی معلومات کے تبادلے کا یہ معاہدہ سال  دوہزارآٹھ میں طے پایا تھا ، اس ک تحت سال میں دو بار ایسی فہرستوں کا تبادلہ ہوتا ہے اور قیدیوں تک ایک دوسرے کو سفارتی رسائی دی جاتی ہے۔

باہمی اطلاعات کے اس تبادلہ کے تحت نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن دہلی کی قونصلر فوزیہ منظوربھارتی وزارت خارجہ گئیں ، انہیں وہاں سویلین جوہری تنصیبات کی فہرست اور بھارت میں  موجود پاکستانی قیدیوں کی فہرستیں دی گئیں۔

 اسی طرح اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کےقونصلرراگورام کی دفترخارجہ آمد ہوئی جنہیں متعلقہ دستاویزات اور فہرستیں فراہم کی گئیں۔

Read Comments