بادشاہ اور لالچی آدمی

شائع 12 ستمبر 2017 02:30pm
File Photo File Photo

ایک بادشاہ نے کسی بات پر خوش ہوکر ایک شخص کو یہ اختیار دے دیا کہ وہ سورج غروب ہونے تک جتنی زمین کا دائرہ مکمل کرلے گا ، وہ زمین اسکو آلاٹ کردی جائیگی اور اگر وہ دائرہ مکمل نہ کرسکا اور سورج غروب ہوگیا تو اسے کچھ نہیں ملے گا۔

یہ سن کر وہ شخص چل پڑا ، چلتے چلتے ظہر ہوگئی تو اسے خیال آیا کہ اب واپسی کا چکر شروع کردینا چاہیئے مگر لالچ نے غلبہ پالیا اور سوچا کہ ٹھوڑا سا اور آگے سے چکر کاٹ لوں پھر واپسی کا خیال آیا تو سامنے کے خوبصورت پہاڑ کو دیکھ کر اسنے سوچا ان کو بھی اپنی جاگیر میں شامل کرلینا چاہیئے۔

الغرض واپسی کا سفر کافی دیر سے شروع ہوا، اب واپسی میں ایسا لگتا تھا جسے سورج نے اسکے ساتھ مسابقت شروع کردی ہے، وہ جتنا تیز چلتا ، سورج بھی اتنا ہی جلدی ڈھل رہا تھا اور عصر کے بعد تو لگتا تھا کہ سورج نے پگھلنا شروع کردیا ہے۔

وہ شخص دوڑنا شروع ہوگیا کیونکہ اسے سب کچھ ہاتھ سے جاتا ہوا نظر آرہا تھا ، اب وہ اپنی لالچ کو کوش رہا تھا مگر بہت دیر ہوچکی تھی،دوڑتے دوڑتے اسکا سینا درد سے پھٹا جارہا تھا مگر وہ تھا کہ بس دوڑے چلا جارہا تھا اوراس درد کی شدت سے اسے ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ اس طرح گرا کہ اسکا سر اسکے نقطہ آغاز کو چھورہا تھا اور پاوں واپسی کے دائرے کو مکمل کررہے تھے یوں اسکی لاش نے دائرہ مکمل کردیا۔ جس جگہ وہ گرا تھا اسہی جگہ اسکی قبر بنائی گئی اور قبر پر کتبہ لگادیا گیا۔

جس پر لکھا تھا ۔ ۔ ۔ اس شخص کی ضرورت بس اتنی سی جگہ تھی جتنی اسکی قبر ہے

نوٹ آج ہمارے دائرے بھی بہٹ بڑے ہوچکے ہیں اور ہم اس زمین کے چکر میں اتنی دور تک دوڑ چکے ہیں کہ شاید واپسی کا رستہ ہمارے آنیوالی نسلیں بھی طے نہ کرسکیں ۔ اللہ پاک ہمیں موت سے پہلے موت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین