بہو رانی اور نوکرانی

شائع 20 اکتوبر 2017 09:58am

Untitled-1

ہمارے معاشرے میں جب  لڑکی کا جنم ہوتا ہے تو اسی دن یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ یہ پرایا دھن ہے اور ہمارے گھر چند سال کی مہمان ہے ۔یہ  جب بڑی ہوجائے گی تو اپنے سسرال چلی جائے گی ۔

 جب لڑکی آہستہ آہستہ پروان چڑھنے لگتی ہے تو اس سے گھر کے چھوٹے چھوٹے کام کروائے جاتے ہیں۔

اور جب لڑکی کی عمر زیادہ ہونے لگتی ہے تو اسے چولہے چوکے میں جھونک کر ایک نوکرانی بنا دیتے ہیں، اسے پڑھائی لکھائی سے کوسوں دور کردیتے ہیں اور ساتھ ہی اس پر کپڑے دھونے ، استری کرنے اور گھر کے تمام چھوٹے بڑے کام کا مزید بوجھ ڈالتے ہوئے اسے اس کی اولین ذمہ داری قرار دیتے ہیں۔

 جب لڑکی تمام ذمہ داریوں کو اچھی طرح نبھانا سیکھ جاتی ہے تو اس کی شادی کردی جاتی ہے ، وہاں لڑکی ایک بالکل نئے اور اجنبی ماحول میں اپنے قدم رکھتی ہے تو نئے خاندان کے افراد اور شوہر نامدار پہلے ہی سے یہ پروگرام بنالیتے ہیں کہ آنے والی بیوی اور بہو ، بھابھی سے کیسے کیسے کام کروائیں جائیں اور کتنا بوجھ ڈالا جائے ؟

 حالانکہ اس گھر میں ایک دو عدد بیٹیاں یا نوکر چاکر بھی ہوتے ہیں،اس کے باوجود آنے والی بہو پر ذمہ داریوں کا عذاب ڈالا جاتا ہے اور بیچاری لڑکی یہ سب کام ایسے لوگوں کیلئے کرتی ہے جو اسلامی شریعت میں کوئی مقام و رتبہ نہیں رکھتے اور  غیرمحرم ہوتے ہیں ۔ ان  میں  دیور ، جیٹھ ، نندوئی اور سسر وغیرہ شامل  ہیں ۔

 یہ سب لوگ آنے والی لڑکی کا استقبال گرمجوشی ، محبت ، خلوص و پیارسے کرنے کے بجائے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ایک لڑکی بیوی اور بہو کی شکل میں ایک نوکرانی مل گئی ہے، اس سے جیسا چاہے سلوک کرو ۔

 ایک معصوم لڑکی جو اپنے گھر کا آنگن ماں باپ بھائی بہنیں اور سہیلیاں سب کو چھوڑ چھاڑکر آتی ہے تو اسے یہ صلہ ملتا ہے ، اس کے جذبات سے لوگ کھیلتے ہیں اور جاہل لوگ تو اپنے ذلیل طرز عمل سے تکلیفیں دیتے ہیں ۔

 ہماری ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کے بارے میں گھر کے افراد کو غور کرنا چاہئے کہ کیا وہ اپنی کی  لاڈوں میں پلی بیٹی  کوبہورانی کی شکل میں دیکھنا چاہیں گے یا  نوکرانی کی شکل میں۔