پولی کلینک اسپتال انفراسٹرکچر ازخود نوٹس کیس نمٹا دیا گیا
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے پولی کلینک اسپتال انفراسٹرکچر ازخود نوٹس کیس نمٹا دیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت اور اسپتال انتظامیہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ چیلنچ نہیں کیا۔ایسا لگ رہا ہے کہ پولی کلینک انتظامیہ کو عدالت عالیہ کے فیصلے پرکوئی اعتراض نہیں۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے از خود نوٹس کیس پرسماعت کی۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے دلائل دیے کہ ایسا لگ رہا ہے کہ پولی کلینک انتظامیہ کو ہائیکورٹ کے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں۔کیا انتظامیہ نہیں چاہتی کہ اسپتال کی توسیع ہو۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دلائل دیے کہ اسپتال انتظامیہ ہائیکورٹ کے فیصلے سے خوش ہے۔
ڈپٹی ایگزیکٹوڈائریکٹر پولی کلینک نے دلائل دیے کہ ہم تو چاہتے تھے کہ پارک والی جگہ پر سی ڈی اے اجازت دے تو تعمیرات کریں،لیکن یہ معاملہ کئی سالوں سے لٹک رہا ہے اس لیے ہم نے تجویز دی تھی کہ کسی دوسری جگہ عمارت تعمیر کریں۔
جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیے کہ آپ کیا چاہتے ہیں کہ اسپتال کی آدھی عمارت یہاں اور باقی کسی دوسرے سیکٹرمیں ہو ۔عدالت نے اسی لیے از خود نوٹس لیا تھا کہ ہسپتال کی تعمیر کا مسئلہ حل ہو جائے۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔