صدر ٹرمپ کا ایران پر طے شدہ حملے مؤخر کرنے کا اعلان، معاہدے کے قریب پہنچنے کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ایران پر طے شدہ حملے اور بمباری کے منصوبے مؤخر کر دیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ایران کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ہونے والی بات چیت اور پیش رفت کے بعد کیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر تازہ بیان میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف طے شدہ حملے مؤخر کر دیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ایران کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد کیا گیا۔
صدرٹرمپ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ جب تک مجوزہ معاہدہ مکمل نہیں ہو جاتا، اس وقت تک بحری ناکا بندی بدستور برقرار رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے بعد فریقین نے بعض نکات پر اتفاق کیا ہے، جس کے بعد فوری عسکری کارروائی کو روک دیا گیا ہے۔

قبل ازیں، امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’سوشل ٹروتھ‘ پر بیان جاری کیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ امریکا ایران پر بھرپور عسکری کارروائی کرے گا، جس کا آغاز آج رات متوقع ہے۔ بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ، ریڈار اور فضائی دفاعی نظام سمیت زیادہ تر دفاعی صلاحیتیں ختم ہو چکی ہیں اور اب امریکا بہت سخت کارروائی کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ مستقبل قریب میں امریکا ایران کے اہم تیل کے مرکز ’خارگ آئی لینڈ‘ سمیت دیگر تیل اور گیس تنصیبات پر کنٹرول حاصل کرے گا۔ انہوں نے اسے وینزویلا کی صورتِ حال سے تشبیہ دی اور کہا کہ وہاں بھی اسی طرز کا ماڈل کامیابی سے چل رہا ہے۔

اپنے بیان میں امریکی صدر نے مزید کہا تھا کہ ایران کے تیل اور گیس مارکیٹس پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے، جو امریکا کے اسٹریٹجک مفاد میں ہوگا۔
امریکی صدرکے ایران پر حملہ کرنے کے دھمکیوں کے بیان کے بعد ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ایرانی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف کوئی فوجی کارروائی کی تو اسے اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے اور تہران مناسب وقت پر سخت اور دردناک جواب دے گا۔
اسی دوران ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا کہ غلط حکمتِ عملی اور جذباتی فیصلے خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور عالمی منڈیوں کو متاثر کرنے کے ساتھ ایک طویل بحران کو جنم دے سکتے ہیں، جس کے اثرات برسوں تک برقرار رہیں گے۔
صدر ٹرمپ نے امریکی ٹی وی سے ٹیلی فون پر بھی گفتگو کی جس میں انھوں نے کہا کہ جمعرات کی رات ایران پر انتہائی طاقت ور حملہ کرنے جا رہے ہیں، تاہم ہم ابھی ایران سے بات کر رہے ہیں، ایران کے بارے مایوس نہیں ہوں، ہوسکتا ہے ایران کے ساتھ عظیم معاہدہ طے پائے، ایران کے ساتھ اسی وقت معاہدہ طے کرنا چاہتا ہوں، ایران کے خارگ جزیرے پرقبضے کو بہتر سمجھتا ہوں۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران معاہدے کے لیے ہم سے بات چیت کر رہا ہے، ایران بہت مغرور ہے، انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے تمام ریڈارز، فضائی دفاعی نظام کو تباہ کردیا ہے، یقین سے کہتا ہوں ایران کے پاس 20 فی صد ہتھیار باقی رہ گئے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کے اندر بدھ اور جمعرات کے روز مسلسل فضائی حملے کیے۔ جس کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون داغے۔
امریکی حکام کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں اپنے دفاع میں کی گئی ہیں جن میں ایران کے فوجی نظام، مواصلاتی نیٹ ورک اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکا نے رات بھر دو سے تین لہروں میں ایران کے تقریباً ایک درجن شہروں اور صوبوں کو نشانہ بنایا۔پہلے حملے میں کیش، سیریک، میناب اور بندر عباس شامل تھے، جب کہ دوسرے مرحلے میں اصفہان اور تہران کے مغرب میں واقع شہر کرج میں دھماکے سنے گئے۔
امریکی حملوں کے بعد ایرانی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا نے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران پر حملے کیے ہیں، جو انتہائی خطرناک نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ امریکی حکومت کی حالیہ کارروائیاں نہ صرف اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں بل کہ ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے اصولوں کو بھی پامال کرتی ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق ان حملوں نے 8 اپریل کی جنگ بندی کو عملاً غیر مؤثر بنا دیا ہے، جب کہ خطے میں مزید کشیدگی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بعض علاقائی ممالک کی سرزمین اور سہولیات امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں میں استعمال کی جا رہی ہیں، جس سے وہ ممالک بھی بالواسطہ طور پر اس کشیدگی کا حصہ بن رہے ہیں۔ تہران نے خطے کے ممالک کو متنبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین اور وسائل کو کسی بھی بیرونی فوجی استعمال سے روکنے کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری پوری کریں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا تھا کہ اس نے بدھ کے روز جنوبی ایران میں فوجی، نگرانی اور ریڈار تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے حق دفاع کے تحت حملوں کی ایک نئی لہر مکمل کی ہے۔
امریکا کی جانب سے ہونے والے حملوں کے جواب میں ایران نے بھی مشرقِ وسطیٰ میں کچھ ممالک پر حملے کیے جن میں بحرین، کویت اور اردن میں پورے خطے میں پھیلے امریکی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا۔















