وزیراعظم، عاطف خان اور شہرام ترکئی پرشدید برہم
فائل فوٹووزیراعظم عمران خان، عاطف خان اور شہرام ترکئی پرشدید برہم ہوگئے۔ وزیراعظم کا دونوں وزرا سے ملنے سے انکار کے بعد وزیراعظم سے وزیر اعلیٰ محمود خان کی ملاقات اور اس کے بعد وزیر دفاع پرویز خٹک کے ساتھ بھی طویل نشست ہوئی اور ساری صورتحال سے آگاہ کردیا ہے۔ خیبرپختونخوا سے وفاقی وزراء محمود خان کے حامی رہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان سے اختلافات رکھنے والے تین وزراء کو فراغت سے قبل محمود خان نے گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان اور وزیر دفاع پرویز خٹک سمیت خیبر پختونخوا کے ایم این ایز کو ساری صورت حال سے آگاہ کردیا تھا۔
سیکشن آفس کیبنٹ سے جاری کردہ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ سینئر صوبائی وزیر سیاحت، کھیل و ثقافت عاطف خان، چند دن قبل وزیر صحت بننے والے شہرام ترکئی اور وزیر مال شکیل احمد سے وزارتیں واپس لے لی گئیں۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ چند روز قبل شہرام ترکئی کی وزارت تبدیل کرنے اور عاطف خان کے نامزد شدہ ایم پی ایز کو کابینہ میں شامل نہ کرنے کے بعد تین وزراء سمیت نو ایم پی ایز کا وزیر اعلیٰ کے فیصلوں کے خلاف خفیہ ملاقات کے بعد گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان، عاطف خان اور شہرام ترکئی پرشدید برہم ہوگئے اور وزیراعظم نے دو صوبائی وزیر شہرام ترکئی اور عاطف کے ساتھ ملنے سے انکار کے بعد وزیراعظم سے وزیر اعلیٰ محمود خان نے ملاقات کی ہے ۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ محمود خان کا وزیر دفاع پرویز خٹک کے ساتھ بھی طویل نشست ہوئی اور جمعرات کو ہونے والے کابینہ اجلاس کے بعد ساری صورتحال سے آگاہ کردیا ہے ۔باغی وزراء اور ناراض ایم پی ایز کے حوالے سے وزیر اعلیٰ محمود خان نے وفاقی وزراء کی حمایت حاصل ہے۔
وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ محمد علی ترکئی کے رہائش گاہ میں ہونے والی میٹنگ کے شریک ممبران اسمبلی مرکزی قیادت کے ریڈار پر آگئے ہیں۔پارٹی مرکزی قیادت نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے خلاف بغاوت میں ملوث ممبران صوبائی اسمبلی کے خلاف تادیبی کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے۔
وزارت سے فارغ ہونے والے سینئر صوبائی وزیر عاطف خان کا کہنا ہے کہ ساتھیوں سے مشاورت کے بعد آئندہ کا لحہ عمل طے کریں گے۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔