Aaj News

جمعہ, مئ 24, 2024  
15 Dhul-Qadah 1445  
Live
Azadi March Nov12 2022

عمران حملہ کیس: پی ٹی آئی نے جوڈیشل کمیشن کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا

سپریم کورٹ اور رجسٹریوں میں جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کیلئے درخواستیں دائر
اپ ڈیٹ 14 نومبر 2022 03:25pm
تحریک انصاف نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں درخواست جمع کروادی، آج نیوز
تحریک انصاف نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں درخواست جمع کروادی، آج نیوز

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے عمران خان پر حملے کے معاملے پر درج کی گئی ایف آئی آر میں نامزد افراد کے اندراج اور جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔

پی ٹی آئی کا مطالبہ ہے کہ عمران خان پر قاتلانہ حملے کا مقدمہ تین افراد کے خلاف درج کیا جائے۔ یہ افراد وزیراعظم شہباز شریف، وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ اور ایک اہم پوزیشن پر فائز ایک سینئر فوجی افسر ہیں۔

پی ٹی آئی نے اس حوالے سے آج سپریم کورٹ اور تمام صوبائی رجسٹریوں میں رٹ پٹیشن دائر کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔

سپریم کورٹ آف پاکستان

اسلام آباد میں پی ٹی آئی ارکان اپوزیشن لیڈرشہزادوسیم کی قیادت میں پارلیمنٹ سے سپریم کورٹ تک ریلی کی صورت تک پہنچے۔

عمران خان پرقاتلانہ حملے اور پی ٹی آئی سینیٹراعظم سواتی پرتشدد کے معاملے کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینےکی استدعا کے ساتھ پی ٹی آئی ارکان پارلیمنٹ نےپرنسپل سیٹ اسلام آبادمیں درخواست دائرکی ۔

درخواست میں نامزد کردہ 3 افراد کے نام شامل نہ کرنے کےاقدام کو چیلنج کرتے ہوئے سوال اٹھایاگیا ہے کہ قانون کے مطابق ایس ایچ او دی گئی درخواست پر مقدمہ کا پابند ہے، کیا عام شہریوں اورحکمرانوں کے لیے الگ الگ قوانین ہیں؟ عمران خان پر حملہ اور تین نامزد افراد کے مقدمہ کا اندراج نہ ہونے کی تحقیقات کی جائیں

پی ٹی آئی کی درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ارشد شریف کا کینیا میں بہمانہ قتل کیا گیا، پسماندگان کی داد رسی کی جائے۔

سپریم کورٹ رجسٹری لاہور

سپریم کورٹ رجسٹری لاہورمیں وزیرآباد فائرنگ کیس کے اندراج مقدمہ کی درخواست دائرکردی گئی۔

عمران خان پر قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر میں پی ٹی آئی کی جانب سے نامزد افراد کے نام کے اندراج کیلئے پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود،عندلیب عباس، عثمان بزداراور شفقت محمود رجسٹرار سپریم کورٹ کے پاس درخواست جمع کروانے پہنچے۔

اس موقع پر صداقت عباسی، ریاض فتیانہ، صمصام بخاری ، ندیم قریشی، ڈاکٹر اختر ملک، عندلیب عباس، ملیکہ بخاری، کنول شوزب، یاور بخاری بھی موجود تھے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ وزیر آباد فائرنگ کیس کا مقدمہ درج نہیں کیا گیا جبکہ سپریم کورٹ اندران مقدمہ کے حوالے سے اپنا حکم دے چکی ہے، یہ عدالت سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کروانے کا حکم دے۔

اس موقع پرمیڈیا سے بات چیت میں فواد چوہدری نے کہا کہ ایف آئی آردرج کرنے کا قانون واضح ہے۔ لگ رہا ہے کہ پاکستان بنانا ری پبلک بن چکا ہے، یہاں لوگوں کا عدالتوں پراعتبارکم ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا بند کمروں میں فیصلے نہیں ہوسکتے کیونکہ سیاسی فیصلے پارلیمان نے کرنے ہوتے ہیں۔ یہاں عدالتی نظام کا بحران کھڑا ہوگیا ہے۔ لوگ بھیڑ بکریاں نہیں ہیں، آپ فیصلے کو درست کریں۔ تمام اداروں کو اپنا سرلوگوں کے فیصلے کے سامنے تسلیم خم کرنا پڑے گا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیرآباد واقعے پر ہماری ایف آئی آر درج نہیں کی گئی،ہم عدالت سے جوڈیشل کمیشن کی درخواست کررہے ہیں

پشاور

پشاور میں بھی پی ٹی آئی رہنماؤں نے عمران خان پر حملہ، اعظم سواتی تشدد اور ارشد شریف قتل کیس کی جوڈیشل انکوائری کیلئے سپریم کورٹ رجسٹری میں درخواست دائر کردی۔

شوکت یوسفزئی کی وساطت سےدائردرخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عمران خان کی جانب سے نامزد 3 افراد کیخلاف مقدمہ درج کیا جائے کیونکہ آئین ہر شہری کو حقوق اور تحفظ دیتا ہے۔ سپریم کورٹ آئین کے آرٹیکل 184 کے تحت اختیار کا استعمال کرکے معاملے کی جوڈیشل انکوائری کاحکم دے۔

مزید پڑھیے:عمران خان حملے کی ایف آئی آر لیک، تین ناموں میں سے کتنے شامل ہوئے

درخواست کے متن کے مطابق اعظم سواتی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کی ویڈیو بھی بنائی گئی جبکہ ارشد شریف کا کینیا میں بہمانہ قتل کیا گیا۔ تمام معاملات کی انکوائری کرکے تفصیلی رپورٹ مرتب کی جائے۔

پشاور رجسٹری کے باہر میڈیا سے گفتگو میں شوکت یوسفزئی نے کہا کہ سب ممبران کو ایسی صورتحال پر انتہائی تشویش ہے۔ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کرمنل داخلہ بن چکے ہیں۔آئین کیساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے اور کوئی شہری محفوظ نہیں، ملک میں سب کیلئے ایک قانون ہونا چاہئے۔

عمر ایوب نے کہا کہ سب کا مطالبہ ہے کہ عمران خان پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات کرکے مرضی کا مقدمہ درج کیا جائے۔

صوبائی وزیرعاطف خان نے کہا کہ ملک میں قانون کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، یہ ملک کو کس طرف لیکر جارہے ہیں ،ان سب مسائل کا حل یہی ہے کہ فوری الیکشن کرائے جائیں۔

کراچی

کراچی رجسٹری میں جمع کرائی جانے والی درخواست میں بھی عمران خان پر حملہ، اعظم سواتی کی مبینہ ویڈیو اور ارشد شریف کے قتل کی عدالتی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے استدعا کی گئی ہے کہ ان تمام واقعات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔

درخواست پی ٹی آئی کے 26 سے زائد ایم پی ایز اور ایم این ایز کی جانب سے دائر کی گئی جس پر حلیم عادل شیخ ، فردوس شمیم نقوی، بلال احمد غفار، محمد علی عزیز، شہزادقریشی ، شاہنوازجدون سمیت دیگرکے دستخط موجود ہیں۔

اس موقع پرعلی زیدی نے کہا کہ وزیرآباد واقعہ کی ایف آئی آرکو نہیں مانتے، ایف آئی آرعمران خان کی مدعیت میں درج کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ارشد شریف اوراعظم سواتی کے معاملے کی بھی تحقیقات کرائی جائیں۔ارشد کوتشدد کے بعد فائرنگ کرکے قتل کیا گیا اورکینیا کی پولیس باربار اپنا بیان تبدیل کررہی ہے۔کینیا کےسفیرکوبلاکرجواب طلب کیوں نہیں کیاگیا؟۔

#کوئٹہ

سپریم کورٹ رجسٹری میں درخواست صوبائی صدر قاسم سوری اور اراکین صوبائی اسمبلی کی جانب سے دائر کی گئی.

کوئٹہ: درخواست میں عمران خان پر قاتلانہ حملے میں پی ٹی آئی کے نامزد افراد کے ناموں کے اندراج کا مطالبہ کرنے کے علاوہ سینیٹر اعظم سواتی کے معاملے پر بھی از خود نوٹس لینے کامطالبہ کیا گیا ہے۔

درخواست دائر کرنے کے بعد صوبائی صدرپی ٹی آئی قاسم سوری نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ حقیقی آزادی کے حصول میں عدلیہ ہمارا ساتھ دے۔

پی ٹی آئی نے ہر صوبے سے تعلق رکھنے والے ممبر قومی اسمبلی کو صبح 10 بجے متعلقہ صوبے کی سپریم کورٹ رجسٹری پہنچنے کی ہدایت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان حملے کی ایف آئی آر: آئی جی پنجاب نے عملدرآمد رپورٹ جمع کرا دی

ذرائع کے مطابق پارٹی کی جانب سے ارکان اسمبلی کو سپریم کورٹ اور رجسٹریوں میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ کہا جارہا تھا کہ پی ٹی آئی کے 300 سے زیادہ اراکین اسمبلی درخواست گزارکی حیثیت سے سپریم کورٹ کی تمام رجسٹریوں میں درخواست جمع کرائیں گے۔

عمران خان پر قاتلانہ حملہ

تین نومبر 2022 کو لانگ مارچ کے دوران وزیر آباد میں قاتلانہ حملے میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان فائرنگ سے زخمی ہوگئے تھے۔

واقعے میں ایک شخص جاں بحق اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان و دیگر رہنماؤں سمیت 13 افراد زخمی ہوئے تھے۔

فائرنگ کرنے والے شخص نوید کو بعد میں کنٹینر کے قریب سے پکڑ لیا گیا تھا جس نے عمران خان پر فائرنگ کا اعتراف بھی کیا تھا۔

آرمی چیف کی تعیناتی اور ن لیگی ادوار میں سنیارٹی پر عملدرآمد

'آپ دیکھ رہے ہیں، ایک اہم تقرری ہونی ہے تو فیصلہ اور مشاورت پاکستان کے بجائے لندن میں ہو رہی ہے'
شائع 13 نومبر 2022 05:27pm
اسکرین گریب
اسکرین گریب

اداروں کے سربراہان کی تقرری دنیا میں ایک معمول کا کام ہے تاہم پاکستان میں فیصلہ سازوں کو کسی ایک نام پر متفق ہونے میں کئی دن لگ جاتے ہیں اور خاص طور پر اگر وہ تقرری ہو آرمی چیف کی۔ جس سے قیاس آرائیاں اور خدشات جنم لیتے ہیں۔

ایسے ہی خدشات کا ذکر اتوار کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی نے کیا۔

شاہ محمود قریشی نے وزیر اعظم شہباز شریف کے لندن میں طویل قیام کے ردعمل میں کہا، ”آپ دیکھ رہے ہیں، ایک اہم تقرری ہونی ہے تو فیصلہ اور مشاورت پاکستان کے بجائے لندن میں ہو رہی ہے، ان صاحبان سے مشاورت ہورہی ہے جن کا آئینی کوئی رول (کردار) ہی نہیں بنتا۔“

وزیراعظم شہباز شریف 9 نومبر سے لندن میں موجود ہیں جہاں وہ اپنے بھائی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف سے اگلے آرمی چیف کی تقرری پر بات چیت کر رہے ہیں۔

ابھی تک ن لیگ کے مطابق کچھ بھی فائنل نہیں ہوا۔ اگلے چیف آف آرمی اسٹاف 29 نومبر کو اپنا عہدہ سنبھالیں گے، جبکہ موجودہ چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اپمنے عہدے سے سبکدوش ہوں جائیں گے۔ انہوں نے اپنی الوداعی ملاقاتوں کے ایک حصے کے طور پر ہفتہ کو لاہور گیریژن کا دورہ بھی کیا۔

بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ 28 اکتوبر کو لاہور کے لبرٹی چوک سے شروع ہونے والے عمران خان کے لانگ مارچ کا مقصد اگلے آرمی چیف کی تقرری کے فیصلے کو متاثر کرنا تھا۔

تاہم، اس طرح کی افواہوں کو اس وقت بریک لگا جب پی ٹی آئی کے سربراہ نے سینئر صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ اگر یہ تقرری شہباز کی زیرقیادت حکومت کرتی ہے تو انہیں کوئی مسئلہ نظر نہیں آتا۔

شاہ محمود قریشی نے پارٹی کے ’آزادی مارچ‘ سے پہلے گجرات میں اپنی پریس کانفرنس میں مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف کے اقتدار میں رہتے ہوئے آرمی چیف کی تقرری سے متعلق فیصلوں کا ایک خلاصہ پیش کیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا، ”1991 میں جب اُنہوں (نواز شریف) نے تقرری کی تو جنرل آصف نواز جنجوعہ سنیارٹی لسٹ میں دوسرے نمبر پر تھے، 1993 میں جب انہوں نے تقرری کی تو جنرل عبدالفہیم کاکڑ سنیارٹی لسٹ میں پانچویں نمبر پر تھے، 1998 میں جب انہوں نے تقرری کی تو جنرل پرویز مشرف تیسرے نمبر پر تھے، 2013 میں جب وہ فیصلہ کرتے ہیں تو جنرل راحیل شریف سنیارٹی لسٹ میں تیسرے نمبر پر ہوتے ہیں، اور جب 2016 میں فیصلہ کرتے ہیں تو جنرل قمر باجوہ سنیارٹی لسٹ میں چوتھے نمبر پر ہوتے ہیں۔“

پی ٹی آئی رہنما نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا موجودہ ”تناؤ“ اور ”غیر یقینی صورتحال“ ملک کے مفاد میں ہے۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ مسلم لیگ ن کی موجودہ قیادت ملک کو بحران کی طرف کیوں لے جا رہی ہے۔

انہوں نے موجودہ سیاسی صورتِ حال کا الزام ”لندن میٹنگز“ پر عائد کیا اور واضح سیاسی عدم استحکام کو ختم کرنے کے لیے قبل از وقت انتخابات کا اپنی پارٹی کا مطالبہ دہرایا۔

سابق وزیر خارجہ نے آئین اور سنیارٹی لیول پر عمل کرنے پر بھی زور دیا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ”یہ تاخیر اور خلاء اچھی علامت نہیں ہیں،“

عمران خان کی اجازت سے اعلیٰ افسر سے تین ملاقاتیں کیں، میجر (ر) خرم کا انکشاف

علیٰ فوجی افسر سے میرے بھائیوں والے تعلقات ہیں، خرم حمید
شائع 12 نومبر 2022 09:34pm
Aaj Exclusive | PTI kay kis ghair siyasi karkun nay sara mamla kharab kiya?| Aaj News

سابق رہنما پاکستان تحریک انصاف میجر (ر) خرم حمید نے انکشاف کیا ہے کہ پارٹی چیئرمین عمران خان کی اجازت سے ہی اعلیٰ فوجی افسر سے ملاقاتیں کی تھیں۔

آج نیوز کے پروگرام ”آج ایکسکلیوژو“ میں گفتگو کرتے ہوئے میجر (ر) خرم حمید کا کہنا تھا کہ مجھے عمران خان کی ایماء پر پارٹی سے نکالا گیا جس کے بعد میں نے پارٹی چیئرمین سے کوئی رابطہ کیا اور نہ اب کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ ایک مقامی اخبار سے معلوم ہوا عمران خان نے سٹی پارٹی صدر کو مجھے شوکاز نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی، نوٹس جاری کرنے کے تیسرے روز میڈیا پر مجھے پارٹی سے نکالے جانے کا نوٹیفکیشن گردش کرنے لگا۔

گزشتہ شام پی ٹی آئی کی جانب سے میجر(ر) خرم حمید روکھڑی کی بنیادی پارٹی رکنیت معطل کرنے کی اطلاع سامنے آئی تھی، پارٹی لیٹر ہیڈ پر جاری خط میں کہا گیا کہ ان کی بنیادی رکنیت پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پرختم کی گئی ہے کیونکہ انہوں نے منظوری کے بغیر پارٹی مؤقف کے خلاف بات کی۔

یہ بھی پڑھیں: میجر(ر) خرم روکھڑی کون، عمران کے آس پاس کیوں دکھائی دیتے تھے

اس لیٹر ہیڈ پر پاکستان تحریک انصاف میانوالی کے ضلعی صدر سلیم گل خان کے نام اور دستخط ہیں، کیونکہ خرم حمید روکھڑی کے پاس پارٹی کے سینیئر نائب صدر میانوالی کاعہدہ تھا۔

ملاقاتوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سابق پی ٹی آئی رہنما نے بتایا کہ میں دونوں فریقین کے مابین مذاکرات کرانا چاہتا تھا، مجھے عمران خان نے ہی اعلیٰ فوجی افسر سے ملنے کی اجازت دی۔

خرم حمید نے کہا کہ ’اعلیٰ فوجی افسر سے میرے بھائیوں والے تعلقات ہیں، میں نے عمران خان کو کہا تھا کہ یہ افسر ایسے نہیں جیسے آپ انہیں سمجھتے ہیں، میری اعلیٰ افسر سے تین ملاقاتیں ہوئیں، سلمان احمد تیسری ملاقات میں میرے ساتھ تھے۔‘

میجر (ر) روکھڑی سلمان احمد نے ساری میٹنگز کے لیے کہا تھا، تین افراد کی کمیٹی بنا کر تفتیش کرلیں کہ سلمان یا میں کون صحیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملاقات کے دوران سینئر افسر کو معاملات طے کرنے کے لئے عمران خان سے ملنے کی پیشکش کی تھی جس پر وہ راضی ہوگئے تھے، جب کہ بیٹھک کے بعد سلمان احمد نے اس متعلق ایک نوٹ تحریر کرکے عمران خان کو بھی بھجوایا تھا۔

میجر (ر) خرم نے مزید انکشاف کیا کہ اس پورے منفی معاملے کا آغاز شہباز گل نے نجی ٹی وی پر متنازع گفتگو کرکے کیا، جب کہ پارٹی کے اندر ایسے لوگ ہیں جو جعلی آئی ڈیز کے ذریعے منفی ٹرینڈ سیٹ کرتے ہیں، انہیں ٹارگٹ دیا جاتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ بات درست نہیں کہ میرا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں، پارٹی میں میرا ایک ریکارڈ ہوگا، میں 2014 سے پارٹی میں ایکٹیو ہوں جب کہ عمران خان کو 1999 میں پہلی بار اپنے گھر بلایا تھا۔

میجر (ر) روکھڑی نے کہا کہ میں نے پارٹی کو میانوالی میں آرگنائیز کیا، میں جب میاں والی ضلع کا سینیئر وائس صدربنا اس وقت پارٹی ٹوٹ چکی تھی، عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی پارٹی چھوڑ چکا تھا، میں اس کو پارٹی میں واپس لے کر آیا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان پارٹی کے گمنام ہیروز کی قدر کریں۔

جب تک حقیقی آدازی نہیں ملے گی یہ قوم رُکنے والی نہیں، اسد عمر

قوم غلامی کو نامنظور کر چکی، ہم نے امریکا کے فیصلے نہیں ماننے
شائع 12 نومبر 2022 06:29pm
پی ٹی آئی رہنما اسد عمر کا جھنگ میں مارچ شرکاء سے خطاب۔ فوٹو — اسکرین گریب
پی ٹی آئی رہنما اسد عمر کا جھنگ میں مارچ شرکاء سے خطاب۔ فوٹو — اسکرین گریب

جھنگ: رہنما پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اسد عمر کا کہنا ہے کہ یہ لوگ جتنا خوف پھیلانےکی کوشش کررہے ہیں پاکستانی قوم اتنی دلیر ہوتی جارہی ہے۔

اسد عمر دربار سلطان باہو سے ریلی کی صورت میں جھنگ پہنچے، ممبران قومی و صوبائی اسمبلی اورپی ٹی آئی کی ضلعی قیادت بھی اسد عمر کے ہمراہ تھے جب کہ اس موقع پر سکیورٹی کے لئے دو ہزار سے زائد مرد خواتین پولیس اہلکار تعینات کیے گئے۔

جھنگ میں آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ ایک نڈر صحافی جو سوال پوچھتا تھا اسے ملک چھوڑ کر جانا پڑا، سچ دکھانے پر پاکستان کے میڈیا کو ہراساں کیا اور اسی وجہ سے ارشد شریف جیسے صحافی کو کینیا میں قتل کردیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قوم غلامی کو نامنظور کر چکی ہے، اب ہم نے امریکا کے فیصلے نہیں ماننے، عمران خان کی سب سے بڑی طاقت عوام ہیں جس سے یہ لوگ خوفزدہ ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ یہ جتنا خوف پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں پاکستانی قوم اتنی دلیر ہوتی جارہی ہے، لہٰذا قوم کے فیصلے کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کرو کیونکہ جب تک حقیقی آزادی نہیں ملے گی یہ قوم رکنے والی نہیں۔

’لندن میں فیصلہ ہورہا ہے پاکستان کا آرمی چیف کون ہوگا‘

چوروں کا ٹبر لندن میں ملک کے مستقبل کا فیصلہ کر رہا ہے، عمران خان
شائع 12 نومبر 2022 05:24pm
اسکرین گریب
اسکرین گریب

سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ آج لندن میں ایک تماشہ ہورہا ہے جو دنیا کے کسی ملک میں نہیں ہوتا، پچھلے چار پانچ دن سے پاکستان کا پرائم منسٹر اور دیگر لندن میں موجود ہیں اور وہاں جاکر فیصلہ ہورہا ہے کہ پاکستان کا آرمی چیف کون ہوگا، ملک کے سب سے اہم عہدے کا فیصلہ لندن میں ہورہا ہے۔

لالہ موسیٰ میں آزادی مارچ کے شرکاء سے ویڈیو لنک کے زریعے کئے گئے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ آرمی چیف کی تقرری کا فیصلہ کون کر رہا ہے؟ اس ملک میں ایک مجرم قرار دیا گیا آدمی، ایک سزا یافتہ آدمی، ایک مفرور جو جھوٹ بول کر ملک سے باہر گیا، اس کے ساتھ اس کے بیٹے جو ن لیگ کے دور میں احتساب سے بھاگ کر باہر گئے، اور گئے اس لئے کہ وہ جواب نہ دے سکے کہ لندن میں اربوں روپے کی جائیدادیں کدھر سے آئیں۔

عمران خان نے کہا کہ تین دفعہ پاکستان کا وزیر اعظم بننے والے شخص کے بیٹے کہتے ہیں ہم پاکستان کے شہری نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار بھی ملک سے باہر بھاگا ہوا تھا، جب تک ’ہینڈلرز‘ نے یقین دہانی نہیں کرائی کہ آپ آجائیں آپ کو کوئی گرفتار نہیں کرے گا۔ یعنی ملک کے چوروں کا ٹبر ملک کے مستقبل کا فیصلہ کر رہا ہے۔

پی ٹی آئی چئیرمین کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے ایک اخبار پر ہتک عزت کا دعویٰ کیا، اسے نہیں پتا تھا کہ یہ برطانوی عدالت ہے۔

عمران خان نے کہا، ”شہباز شریف کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ ٹیلی فون اٹھا کر جج کو کہے کہ جی بے نظیر کو تین نہیں پانچ سال سزا دینا ہے، ماضی میں بریف کیس پکڑ کر کوئٹہ بینک میں جانے والا، بینچ کو خریدنے والا، اس کو یہ نہیں پتا کہ کدھر پھنس گیا جا کر۔“

انہوں نے مزید کہا کہ اب سے وہاں جا کر بتانا پڑے کہ کیا الزامات لگائے اور کس طرح الزامات غلط ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ہمیں کہتے ہیں پاکستان میں پیسہ لگاؤ خود کا پیسہ باہر پڑا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ”شہباز شریف اور ان کے بیٹوں کا جو ٹی ٹی کیس ہے، تو ماڈل ٹاؤن میں پیسہ پہلے ان کے گھر سے گاڑی میں رکھا جاتا تھا، پھر پولیس گارڈ ہنڈی اور حوالے لے کر جاتے تھے، جہاں یہ پیسہ ڈالر میں تبدیل ہوتا اور پھر یہ باہر بھیجتے تھے۔ پھر جب باہر سے پیسہ منگوانا ہوتا تو ان لوگوں کے نام پر منگواتے جو پاکستان سے باہر کبھی گئے ہی نہیں، زرداری بھی یہی کرتا تھا۔“

عمران خان نے کہا، ”مجھ پر الزام لگایا کہ آرمی چیف کی تقرری کو متنازع کردیا، میں نے تو کبھی متنازع نہیں کیا، میں تو کہتا ہوں جو میرٹ کے اوپر ہو آرمی چیف اسے بنانا چاہئیے، مجھے تو کوئی اپنا آرمی چیف نہیں چاہئیے، نہ مجھے کوئی اپنا جج چاہئیے نہ اپنا آئی جی چاہئیے۔ مجھے تو میرٹ کے اوپر بہترین لوگ چاہئیں۔“

انہوں نے کہا کہ ”ان کو چاہئیے، ہر آدمی ان کا اپنا ہونا چاہئیے۔ شہباز شریف نے اسلام آباد کا جو آئی جی بنایا، اس کو سیف سٹی کیس میں سزا ہونے والی تھی۔ کیوں بنایا اس کو؟ کیونکہ وہ کرپٹ ہے اور اب اس کی خدمت کرے گا۔“

لندن میں شریف فیملی کو ٹف ٹائم دینے والا شایان علی لاپتا

شایان اچانک سے منظرعام سے غائب کیوں ہوا؟
شائع 12 نومبر 2022 04:30pm
تصویر بزریعہ سوشل میڈیا
تصویر بزریعہ سوشل میڈیا

لندن میں شریف فیملی کی رہائش گاہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے باہر احتجاج کے باعث وجہ شہرت رکھنے والے 17 سالہ نوجوان شایان علی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کا اچانک غیرفعال ہونا سوشل میڈیا پرسوالیہ نشان بن گیا۔

بڑی تعداد میں پاکستانی اور اوورسیز پی ٹی آئی سپورٹرز اپنی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ شایان اچانک سے منظرعام سے غائب کیوں ہوا؟ اس ضمن میں ایک خاص بات گزشتہ روز ان کی والدہ سے بھی لندن پولیس کی جانب سے تفتیش کی خبر سامنے آنا ہے۔

سوشل میڈیا پر شایان کی والدہ کے حوالے بھی متضاد اطلاعات زیرگردش رہیں کہ انہیں گرفتار کیا گیا جس کے بعد رہائی ہوئی، جبکہ بہت سوں کا کہنا ہے کہ ان سے صرف تفتیش کی گئی، ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے باہر مظاہرہ کرنے والوں میں شایان کی والدہ بھی پیش پیش ہوتی تھیں۔

صارفین نے شایان کی گمشدگی پر ٹوئٹر کے نئے مالک ایلون مسک سے بھی سوال کر ڈالا کہ کیا ان کے پاس کوئی ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں وہ سچ بول سکیں۔

https://twitter.com/syasitweets/status/1590722351112818690?s=20&t=7QkWLt9gSb9DOP8xdsAq6g

اس حوالے سے انٹرنیشنل ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن کے نمائندہ میجرعادل راجہ نے اپنی ٹویٹ میں سوال اٹھایا کہ شایان علی کہاں ہیں؟ ان کا کوئی سُراغ نہیں مل رہا۔

شایان کو برٹش پاکستانی کمیونٹی کا جانا پہچانا ایکٹوسٹ قرار دینے والے عادل راجہ نے بتایا کہ شایان جس کالج میں زیر تعلیم ہیں ہم نے وہاں کی انتظامیہ سے درخواست کی ہے کہ واضح کریں آپ کے طالبعلم کے ساتھ کیا ہوا؟

https://twitter.com/soldierspeaks/status/1591052236016455682?s=20&t=RYjzuLHtexbcXL9KLh67wg

اگلی ٹویٹ میں عادل راجہ نے واضح کیا کہ انہیں مصدقہ ذرائع سے علم ہوا ہے کہ شایان منظرعام سے غائب ہے کیونکہ اس کے کالج کی جانب سے اس پر ای سی ایچ آر(یورپین کنوینشن آن ہیومن رائٹس) کے تحت پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور اسی لیے وہ کالج انتظامیہ سے درخواست کررہے ہیں کہ وہ اپنی جانب کی کہانی واضح کریں۔

لندن میں نجی چینل اے آر وائی کے نمائندہ فرید قریشی نے عادل راجہ کی ٹویٹ کے جواب میں لکھا کہ، ”شایان کی والدہ کے مطابق اس نے اپنا سوشل میڈیا اکاؤنٹ پاکستانی حکومت کی شکایت کے بعد غیرفعال کردیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ شایان کا تعلق ٹی ایل پی سے ہے“۔

https://twitter.com/FaridQureshi_UK/status/1591052895750717440?s=20&t=7QkWLt9gSb9DOP8xdsAq6g

تاہم فرید قریشی نے یہ بھی کہا کہ شایان کی والدہ کے مطابق وہ جلد سوشل میڈیا پرواپس آئے گا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر شایان کے نام سے منسوب ایک اور ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی دیکھا گیا جہاں وہ ویڈیو پیغام میں اپنی جلد واپسی کا دعویٰ کررہے ہیں۔

تاہم کئی صارفین نے واضح کیا کہ یہ شایان کے نام سے جعلی اکاؤنٹ ہے۔

https://twitter.com/AzharSiddique/status/1591270599191584771?s=20&t=7QkWLt9gSb9DOP8xdsAq6g

آزادی مارچ روکنے کے انتظامات مکمل، اسلام آباد کنٹیرز بستی بن گیا

شہر میں1300 کنٹیرز پہنچا دیے گئے ہیں
شائع 12 نومبر 2022 01:02pm
اسکرین گریب تصویر
اسکرین گریب تصویر

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو حقیقی آزادی مارچ کے پیش نظر کنٹیرزبستی بنا دیا گیا ہے۔

انتظامیہ کی جانب سے شہر اقتدارمیں1300 کنٹیرز پہنچا دیے گئے ہیں۔

شہرکی سیکیورٹی کے لئے سندھ پولیس کےعلاوہ ایف سی کے ساتھ ساتھ رینجرز سمیت 30,000 اہلکار ڈیوٹی کے فرائض سرانجام دیں گے۔

پولیس کی چھٹیاں منسوخ کردی گئیں ہیں جبکہ ریڈزون پہنچنے پرسختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

دوسرے صوبوں سے پولیس کی نفری بلائی گئی ہے جن کی رہائش کے انتظامات فیصل مسجد اور پولیس ہیڈ کواٹر میں کیے ہیں۔

آرمی چیف کی تعیناتی کا حقیقی آزادی مارچ سے کوئی تعلق نہیں، شاہ محمود

ملک کو بحران سے نکالنے کا واحد راستہ انتخابات ہیں۔
اپ ڈیٹ 12 نومبر 2022 04:02pm
گجرات: پی ٹی آئی وائیس چیئرمین شاہ محمود قریشی میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں، اسکرین گریب، آج نیوز یوٹیوب
گجرات: پی ٹی آئی وائیس چیئرمین شاہ محمود قریشی میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں، اسکرین گریب، آج نیوز یوٹیوب

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وائیس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان غلط سمت میں جارہا ہے، عوام نے عمران خان کا بیانیہ قبول کرلیا ہے۔

گجرات میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عمران خان کی سربراہی میں نیشنل سیکیورٹی پالیسی مرتب کی گئی، ملک کو بحران سے نکالنے کا واحد راستہ انتخابات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان صاحب نے اپنے بیان میں تین حضرات کا نام لیا، جب تک وہ تین حضرات اپنے عہدوں پر برقرار رہیں گے عام تاثر ہے کہ تحقیقات غیرجانبدارانہ اورشفاف کیسے ہونگے؟

ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کا ہمارے حقیقی آزادی مارچ سے کوئی تعلق نہیں، وہ ایک آئینی مدت ہے جس کا اختتام ہونا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہمارے حقیقی آزادی مارچ کا ایک نکاتی ایجنڈہ ہے کہ ملک میں نئے شفاف انتخابات ہوں، ہم سنجیدہ طبقے کو بتا رہے ہیں کہ مسائل کا حل نئے انتخابات ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اپنا مدعا اعلیٰ عدلیہ کے سامنے رکھ رہے ہیں، ہماری پٹیشن چار نکات پر مشتمل ہوگی، پہلا نکتہ سینیٹر اعظم سواتی کو انصاف فراہم کیا جائے، دوسرا نکتہ ارشد شریف کے حوالے سے ہے، قوم جاننا چاہتی ہے کہ ارشد شریف کے ساتھ کیا ہوا، ارشد شریف کا لیپ ٹاپ کس کے پاس ہے؟

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمارا تیسرا نکتہ سائفر ہے، جس پر پی ٹی آئی کا نکتہ نظر واضح ہے، سائفر کے بعد عدم اعتماد اور پھر سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا، چوتھا نکتہ یہ ہے کہ کیا ایک شخص جس کا بیٹا شہید ہوا، کیا انہیں اپنی مرضی کی ایف آئی آر کا حق نہیں، پولیس کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کاغذ کا ٹکڑا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بزنس کمیونٹی پریشان ہے، روپیہ گرتا چلا جا رہا ہے، اس سے پاکستان کا بے پناہ نقصان ہو رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے حقیقی آزادی مارچ کو جاری رکھنے کا بڑا فیصلہ کیا۔

لائیو

آزادی مارچ لالہ موسیٰ میں، عمران خان کی سیکیورٹی مزید سخت

  • عمران خان کے لیے 22 نومبر کی تاریخ اہم
  • پی ٹی آئی چیئرمین کی رہائش گاہ کے باہر اضافی دیوار تعمیر۔ خیبرپختون پولیس تعینات
  • جے آئی ٹی کی دوبارہ تشکیل، ڈی پی او وہاڑی خارج
اپ ڈیٹ 12 نومبر 2022 10:26pm
تصویر: عمران خان/ فیس بُک آفیشل
تصویر: عمران خان/ فیس بُک آفیشل

پی ٹی آئی مارچ کا آغاز آج لالہ موسیٰ سے ہوگا

لندن میں میرٹ کا تماشا لگا دیا گیا، عمران خان
اپ ڈیٹ 12 نومبر 2022 08:31am
پی ٹی آئی حقیقی آزادی مارچ۔ فوٹو — اسکرین گریب/ سوشل میڈیا
پی ٹی آئی حقیقی آزادی مارچ۔ فوٹو — اسکرین گریب/ سوشل میڈیا

پاکستان تحریک انصاف کے حقیقی آزادی مارچ کا آغاز آج لالہ موسیٰ سے ہوگا۔

گزشتہ روز حقیقی آزادی مارچ کے دوسرے مرحلے کا دوسرا روز گجرات سے شروع ہو کر جی ٹی ایس چوک پہنچ کرختم ہوا تھا۔

لانگ مارچ کی قیادت نائب چیرمین تحریک انصاف شاہ محمود قریشی اور دیگر قائدین نے کی، مرکزی قائدین میں سے شاہ محمود قریشی اور حماد اظہر نے بُلٹ پروف شیشے والے ڈائس سے خطاب کیا۔

پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے شرکاء سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب میں کہا کہ ملک کے فیصلوں کا اختیار عدالت سے سزا یافتہ کو دے دیا گیا، لندن میں تماشا میرٹ پر عمل کیلیے نہیں ہو رہا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں اخلاقیات کا جنازہ نکالا جا رہا ہے اعظم سواتی کو اب تک انصاف نہیں ملا، اور وہ خود وزیرآباد میں حملے کا مقدمہ تک درج نہیں کرا سکے۔

پی ٹی آئی کے حقیقی آزادی مارچ میں کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی، مارچ کا گجرات میں پہلا استقبال رامتلی چوک میں ق لیگ کے کارکنان نے بھرپور انداز سے کیا۔

مارچ کا دوسرا استقبال جی ٹی ایس چوک میں پی ٹی آئی کی مقامی قیادت اور کارکنان نے کیا جہاں سابق وزیر اعظم اور پارٹی چیئرمین عمران خان کا اسکرین کے ذریعے خطاب نشر کیا گیا۔

پولیس کی جانب سے سکیورٹی کی فول پروف انتظامات کئے گئے، مارچ کے اختتام پر کارکنان گھروں کو چلے گئے ۔

عمران خان 22 نومبر کے بعد رخت سفر باندھیں گے

azسعودی کراون پرنس کے دورے کی ٹائمنگ کتنی اہم ہے؟
شائع 11 نومبر 2022 06:55pm
سابق وزیراعظم عمران خان۔ فوٹو — سوشل میڈیا
سابق وزیراعظم عمران خان۔ فوٹو — سوشل میڈیا

پاکستان کی حقیقی آزادی کی تحریک کے کپتان عمران خان بظاہر راولپنڈی پہنچنے کا عندیہ تو دے رہے ہیں، مگر تاریخ کا اعلان ابھی تک نہیں کررہے۔

زمان پارک اجلاسوں کی اندروانی کہانی سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ عمران خان 22 نومبر کے بعد راولپنڈی اور اسلام آباد کے لئے رخت سفر باندھیں گے۔ لیکن اب یہ 22 نومبر کی تاریخ کہاں سے آگئی؟

عمران خان کے قریبی ذرائع کے مطابق انہوں نے رہنماوں کو ہدایت کی ہے کہ 21 اور 22 نومبر کو سعودی ولیہ عہد و وزیراعظم کا دورہ اسلام آباد متوقع ہے اس لئے ان دو دنوں میں اسلام آباد میں نہ ہی کوئی مظاہرہ کیا جائے اور نہ ہی کوئی سڑک بلاک کی جائے۔

ظاہر ہے ایسی صورت میں اگر عمران خان اپنا لانگ مارچ ان تاریخوں سے پہلے اسلام آباد لے کر پہنچ جاتے ہیں تو ان دو دنوں میں انہیں اپنے کارکنوں کو اسلام آباد سے عارضی طور پر نکالنا ممکن نہیں ہوگا۔

پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ 22 نومبر تک جی ٹی روڈ اور راولپنڈی تک مظاہرے محدود رکھیں جائیں۔

دوسری جانب اگرچہ سفارتی آداب کے تحت سعودی عرب یا کوئی برادر ملک پاکستان کے اندرونی معاملات میں ثالثی کا کردار ادا نہیں کرسکتے مگر پاکستان کی تاریخ میں ایسا ہوتا رہا ہے، ذوالفقار علی بھٹو کی جیل کی زندگی کے دوران سعودی عرب سمیت بیشتر ممالک ان کی سزا معافی کی اپیل کرتے رہے۔

پرویز مشرف کے دور میں سعودی عرب اور چند دیگر برادر اسلامی ممالک نے نواز شریف کی سعودی عرب میں جلا وطنی کے بارے تحریری معاہدے میں ضامن کا کردار ادا کیا اس لئے سیاسی اور سفارتی ذرائع اس بات کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دے رہے کہ پاکستان کے موجودہ سیاسی بحران میں سعودی ولی عہد ثالثی کا کوئی کردار ادا کرسکتے ہیں۔

سعودی حکمران خاندانوں کے ساتھ جہاں شریف فیملی کے بہتر تعلقات ہیں وہیں پر موجودہ کراون پرنس کی عمران خان سے قربت بھی کم نہیں۔ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ہر نوعیت کے برادرانہ تعلقات بھی ہیں اور دفاع کے مشترکہ معاہدے بھی ہیں۔

ایسے میں اسٹیبلشمنٹ، موجودہ حکومت اور عمران خان کے درمیان جو سیاسی بحران جنم لے چکا ہے، اس کا حل کرنا ان سب کے لئے بہتر ہوگا جن کا پاکستان سے قریبی تعلق ہے۔

سیاسی ذرائع کے مطابق اگر سعودی ولی عہد کے دورے کے موقع پر پاکستان کا موجودہ سیاسی بحران حل کرنے میں مدد ملتی ہے تو عمران خان اپنی تحریک کو مؤخر کرسکتے ہیں ورنہ ان کی تحریک کا فائنل راونڈ 22 نومبر کے فوری بعد متوقع ہوگا۔

ایک مفرور آدمی ملک کی سب سے بڑی پوزیشن کا فیصلہ کر رہا ہے: عمران خان

قوم ایٹم بم برداشت کرسکتی ہے لیکن کرپشن نہیں کیونکہ اخلاقیات کو بمباری سےختم نہیں کرسکتے
شائع 11 نومبر 2022 06:17pm
Gujrat - Haqeeqi Azadi march | Imran Khan addresses to workers | Aaj News

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کا کہنا ہے کہ ایک مفرور اور سزا یافتہ آدمی ملک کے اہم فیصلے کر رہا ہے۔

ویڈیو لنک کے ذریعے حقیقی آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ مغرب میں لوگ اپنے حقوق جانتے ہیں، یہاں زمین پر قبضہ ہو جائے تو غریب دھکے کھاتا ہے، صرف بنانا ری پبلک میں قبضہ گروپ ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اخلاقیات کا قتل ہو رہا ہے، ایک مفرور آدمی اور عدالتوں سے سزا یافتہ شخص ملک کے فیصلے کر رہا ہے، یہ لوگ 11 سو ارب روپے کے چوری کے کیسز ختم کرا رہے ہیں، ہماری حکومت میں 6 فیصد گروتھ ریٹ تھا، آج دیکھیں معیشت تیزی سے نیچے گر رہی ہے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ قوم ایٹم بم برداشت کرسکتی ہے لیکن کرپشن نہیں کیونکہ اخلاقیات کو بمباری سےختم نہیں کرسکتے، جاپان پر ایٹم بم گرا، آج وہ کہاں کھڑا ہے، ہر جگہ جا کر پیسے مانگتے ہیں، بھکاریوں کی طرح پیسہ مانگنے سے ملک کھڑا نہیں ہوتا۔

پی ٹی آئی چیہئرمین کا کہنا تھا کہ مجھ پرحملہ ہوا، میں اپنا مقدمہ درج نہیں کرا سکا، اعظم سواتی کو اب تک انصاف نہیں ملا، مضبوط اداروں سے ملک مضبوط ہوتا ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ساجد علی شاہ نے کتاب میں لکھا ان لوگوں نےججز خریدے، نواز شریف نے ایک جج کو فون کرکے کہا بینظیر کو 5 سال کی سزا دو، موجودہ چیف الیکشن کمشنر ان کے گھر کا نوکر ہے جس نے الیکٹانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) نہیں آنے دی۔

عمران خان نے کہا کہ یہ اداروں کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں جس کا مطلب ملک برباد کرنا ہے، یہ اپنے خلاف کیسز میں گواہوں کو مروا دیتے ہیں، اب انہوں نے نیب میں بھی اپنا آدمی بٹھا دیا ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ارشد شریف پر تشدد کی تصاویر دیکھ کر دھچکا لگا، انہوں نے با ضمیر صحافیوں کے ساتھ ظلم کیا، ارشد شریف کا قتل تمام صحافیوں کے لئے پیٖغام تھا، خوف دلا کر یہ لوگوں کو غلام بنا دیتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک مفرور اور سزا یافتہ شخص ملک کی سب سے اہم پوزیشن کے لئے فیصلےکر رہا ہے، ہم بھیڑ بکریاں نہیں ہیں، اپنی آزادی کے لئے ہمیں جدو جہد کرنی ہوگی، ملک میں قانون کی حکمرانی میرا مشن ہے۔

عمران خان کی رہائشگاہ کے باہر حفاظتی دیوار تعمیر، پولیس کی نفری بھی تعینات

عمران خان پر ایک اور حملے کے خدشے کے پیش نظر سکویرٹی ہائی الرٹ ہے، فواد چودھری
اپ ڈیٹ 11 نومبر 2022 05:45pm
فوٹو — اسکرین گریب
فوٹو — اسکرین گریب

عمران خان کو سکیورٹی تھریٹ کے پیشِ نظر ان کی رہائشگاہ زمان پارک کے باہر سیمنٹ کے بلاکس سے حفاظتی دیوار بنا دی گئی۔

زمان پارک کے داخلی و خارجی راستوں پر بھی ریت کے بوریوں کی چیک پوسٹ قائم کرکے خیبر پختونخوا پولیس کا دستہ سمیت پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی جب کہ زمان پارک میں سکیورٹی کے مزید کیمرے بھی نصب کر دئیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ سکیورٹی تھریٹ کے باعث زمان پارک آنے جانے والوں کا ریکارڈ رکھنے کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کر دیا گیا، پارٹی کی خواتین رہنماؤں کی آمد کے پیش نظر چیکنگ کے لیے خواتین پولیس اہلکار تعنیات ہیں۔

فوٹو — اسکرین گریب
فوٹو — اسکرین گریب

پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان لاہورمیں اپنی رہائشگاہ زمان پارک میں موجود ہیں جہاں انہوں نے آج اپنی سیاسی مصروفیات محدود کردی ہیں۔

چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان زمان پارک میں اپنے بیٹوں کے ساتھ موجود ہیں جب کہ ذرائع نے بتایا ہے کہ عمران خان آج صرف چند شخصیات سے ملیں گے اور زیادہ وقت اپنے بچوں کے ساتھ گزاریں گے۔

مزید پڑھیں: عمران خان کے دونوں صاحبزادے لاہور پہنچ گئے

زرائع کے مطابق عمران خان ٹیلیفون پر مرکزی رہنماؤں سے لانگ مارچ کی صورتحال پر تبادلہ خیال بھی کریں گے اور شام میں مارچ کے شرکاء سے وڈیو لنک پر خطاب کریں گے۔

پی ٹی آئی رہنما فواد چودھری کے مطابق اسپیشل برانچ کی عمران خان پر ایک اور حملے کے خدشہ کے پیش نظر سیکیورٹی ہائی الرٹ کی ہے۔

عمران خان کی رہائشگاہ زمان پارک کے اطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں اور معمول سے ہٹ کر پولیس کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔

اس کے علاوہ کسی بھی غیر متعلقہ گاڑی اور فرد کو عمران خان کی رہائشگاہ جانے پر سختی سے پابندی عائد کی گئی ہے۔

عمران خان پر حملے کی جے آئی ٹی میں پھر تبدیلی، ڈی پی او وہاڑی خارج

پانچ رکنی جے آئی ٹی واقعے کی تحقیقات کرے گی
اپ ڈیٹ 11 نومبر 2022 03:12pm
تصویر بزریعہ بزنس ریکارڈر
تصویر بزریعہ بزنس ریکارڈر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حقیقی آزادی مارچ پر حملے کی تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) میں تبدیلی کی گئی ہے۔

نوٹی فکیشن کے مطابق ڈی آئی جی طارق رستم چوہان کنوینئر کو عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ آر پی او ڈی جی خان سید خرم علی کنوینئر کے عہدے پر مقرر کردیے گئے ہیں۔

جبکہ ڈی آئی جی طارق رستم چوہان جے آئی ٹی کے ممبر نامزد کیے گئے ہیں، ڈی پی او وہاڑی ظفر بزدار کو کمیٹی سے نکال دیا گیا ہے۔

نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ احسان اللہ چوہان اے آئی جی مانیٹرنگ ممبر کمیٹی نامزد جبکہ ملک طارق محبوب ایس پی پوٹھوہار بھی ممبر نامزد کیے گئے ہیں۔

جے آئی ٹی کسی ایک ممبر کو خود بھی ممبر نامزد کرسکے گی۔

اس سے قبل، پنجاب حکومت نے وزیرآباد میں پاکستان تحریک انصاف کے حقیقی آزادی مارچ پر حملے کی تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) جے آئی ٹی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

ڈی آئی جی طارق رستم چوہان کی سربراہی میں پانچ رکنی جے آئی ٹی واقعے کی تحقیقات کرے گی۔

محکمہ داخلہ پنجاب نے سابق وزیراعظم عمران خان پرحملے کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔

ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ طارق رستم چوہان جے آئی ٹی کی سربراہی کریں گے، جبکہ آر پی او ڈی جی خان سید خرم علی، اے آئی جی احسان اللہ چوہان، ڈی پی او وہاڑی ظفر بزدار اور ایس پی سی ٹی ڈی نصیب اللہ جے آئی ٹی کا حصہ ہوں گے۔

ممبران کے تقرر کے لئے صوبائی وزیر راجہ بشارت کی زیر صدارت پنجاب کابینہ کمیٹی برائے لاء اینڈ آرڈر کا اجلاس ہوا، جس میں مشیر داخلہ پنجاب عمر سرفراز چیمہ، چیف سیکرٹری عبداللہ سنبل اور دیگر افسران بھی شریک ہوئے۔

واضح رہے کہ پنجاب کابینہ کمیٹی کے چیئرمین راجہ بشارت نے عمر سرفراز چیمہ اور چیف سیکرٹری سے مشاورت کے بعد جے آئی ٹی کی منظوری دی۔