کینو کھانا زیادہ فائدہ مند ہے یا پینا؟
اپنی صبح کی شروعات ٹھنڈے مزیدار اور میٹھے کینو کے جوس کے ساتھ کون نہیں کرنا چاہے گا،کینوکو تمام پھلوں میں بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے جس کی وجہ ان کا میٹھا اور خوشگوار ذائقہ ہے،پاکستان میں سردیوں کے مو سم میں تازے کینو ہر جگہ دستیاب ہوتے ہیں جبکہ کینو کا جوس پورا سال آپ کی پہنچ میں ہوتا ہے۔
کینو کا جوس وٹامن سی اور فائبرز سے بھرپور ہوتا ہے ،جبکہ یہ جسم میں وٹامن بی ،بی ون اور وٹامن اےبناتا ہے ،جو جسم کی بہت سی ضروریات کو پورا کرکے نشوونما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ،لمبی کہانی کو چھوٹا کرتے ہوئے اگر کہا جائے کہ کینو ہر لحاظ سے انسانی صحت کیلئے بہترین ہے تو غلط نہ ہوگا۔
تاہم ابتداء ہی سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ کینو کا جوس پینا کینو کھانے سے زیادہ فائدہ مند ہوتا یہ کتنا صحیح ہے یہ تو دونوں میں موجود غذائیت سے ہی پتہ چلے گا۔
انسانی عقل کے مطابق سوچا جائے تو ایک تازہ کینومیں ٹیٹرا پیک جوس سے زیادہ وٹامن موجود ہوتے ہیں،جبکہ ان میں فائبر بھی بہت زیادہ تعداد میں ہوتے ہیں جو انسانی جسم کے اندرونی نظام کی صفائی کرکے اندرونی اعضاء کی حرکات کو بہتر بناتے ہیں۔
فائبر کی زیادہ مقدار جسم میں شوگر لیول کو ٹھیک رکھتی ہے ،جبکہ کینو کے گودے میں موجود مائیکرو غذائی اجزاء سوجن کو ختم کرتے ہیں یہ اجزاء جوس میں موجود نہیں ہوتے۔
ایک تحقیق کے مطابق زیادہ کولیسٹرول والی خوراک کے بعد اگر ایک کینو کھالیاجائے تو یہ غذا ہضم کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے ،جبکہ کینو دل کی بیماریوں اور کینسر کو ہونے سے روکتا ہے۔
اورنج جوس باآسانی ہر جگہ دستیاب ہوتا ہے لیکن اس میں وہ تمام غذائی اجزاء موجود نہیں ہوتے جو ایک تازے کینو میں موجود ہوتے ہیں،لہٰذا کینو کے جوس کی بجائے تازہ کینو کھانے کوترجیح دیں۔
نوٹ:یہ تحریر محض عام معلومات عامہ کیلئے ہے

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔