معروف قوال امجد صابری کو ہم سے بچھڑے ایک برس بیت گیا
فائل فوٹوہر دل عزیز اور ہر دل کی دھڑکن مشہور و معروف قوال گھرانے سے تعلق رکھنے والے غلام فرید صابری کے بیٹے امجد صابری کو ہم سے بچھڑے ایک برس بیت گیا۔
معروف قوال کو دہشتگردوں کی جانب سے گزشتہ سال سولہویں روزے کو کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
امجد صابری تئیس دسمبر انیس سو چھیتر کو پیدا ہوئے انہوں نے قوالی کا فن اپنے والد غلام فرید صابری کی سرپرستی میں حاصل کیا اور انیس سو اٹھاسی میں محض بارہ سال کی عمر میں اپنی پہلی اسٹیج پرفارمنس دی۔ اس پہلی پرفارمنس کے بعد انہوں نے زندگی میں کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور قوالی کی دنیا کو ایک نئی پہچان دی۔
امجد صابری کی آواز اور ان کا منفرد انداز ان کی قوالیوں میں صوفی ازم کو اجاگر کرتا تھا جس کے باعث لوگ جھومنے پر مجبور ہوجاتے تھے۔ انہیں قوالی کے فن میں اتنی مہارت حاصل تھی کہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ان کے مداح موجود ہیں۔
امجد صابری کی جانب سے پڑھا گیااپنے والد کا کلام 'بھر دو جھولی میری یا محمد' نے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی۔ ان کا آخری کلام 'میں قبر اندھیری میں گھبراوں گا جب تنہا' رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔
امجد صابری مایہ ناز قوال ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی اعلٰیٰ اخلاق اور شخصیت کے بھی مالک تھے۔ وہ فلاحی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے انہوں نے کئی غریب گھرانوں کی کفالت کا بیڑا اپنے سر اٹھا رکھا تھا جس کا کسی کو علم نہ تھا۔
امجد صابری قتل کے دل خراش حادثے واقعے کو ایک سال کا عرصہ بیت گیا لیکن آج بھی وہ عوام کے دلوں میں زندہ ہیں۔ یاد رہے امجد صابری کو بائیس جون دو ہزار سولہ بمطابق سولہ رمضان المبارک چودہ سو سینتیس ہجری کو دو موٹر سائیکل سواروں نے کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں گولیوں کا نشانہ بنایا تھا۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔