انسانی جسم کے بارے میں وہ حقائق جو یقینا آپ نہیں جانتے
ہر شخص یہ سوچتا ہے کہ وہ اپنے جسم کو اچھی طرح جانتا ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ جسم میں واقع ہونے والی ہر قسم کی تبدیلی اور جو کچھ بھی ہورہا ہے ہر سیکنڈ سے باخبر ہے۔
لیکن حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے، ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسان کا جسم بہت ہی مشکل میکینزم پر بنا ہوا ہے اور کئی دفعہ تو یہ اچھے پڑھے لکھے اور سمجھدار لوگوں کی سمجھ سے بھی باہر ہوجاتا ہے۔
آج ہم آپ کو انسان کے جسم میں موجود ایسے ہی کچھ حقائق کے بارے میں بتائیں گے، یقینا آپ اس سے لاعلم ہونگے اور اس کے بارے میں جان کر حیران بھی ہونگے۔
٭ایک انسان کے منہ میں بیکٹیریا کی تعداد اس میں دنیا میں موجود انسانوں سے بھی زیادہ ہے۔
٭انسان روزانہ تقریبا 20000 کے قریب سانسیں لیتا ہے۔
٭ایک بال ایک سیب کا وزن اٹھا سکتا ہے۔
٭جن کے ناخن نرم، آسانی سے ٹوٹنے والے ہوں یا ان میں چاند نما نشان موجود ہو تو ایسے لوگوں میں تھائیروائیڈ کی بیماری کا اندیشہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔
فائل فوٹو٭انسان کے دماغ میں چیزیں 400 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے تسلسل سے آتی ہیں۔
٭ایک دن میں انسان کا خون جسم میں 19312 کلومیٹر کا طویل سفر طے کرتا ہے۔
٭انسان کے جسم میں موجود تمام نسوں کی اگر لمبائی ناپی جائے تو یہ تقریبا 75 کلومیٹر بنتی ہے۔
٭تقریبا اس دنیا میں موجود ہر انسان کی پلکوں میں لیکھیں پائی جاتی ہیں جو ڈیموڈیکس کہلاتی ہیں۔
٭ایک انسانی آنکھ 10 ملین مختلف رنگوں کو پہچان سکتی ہے لیکن ہمارا دماغ اسے یاد نہیں رکھ پاتا۔
٭انسان کا دل ایک سال میں 35 ملین مرتبہ دھڑکتا ہے۔
٭انسانی جسم سے ہر روز تقریبا 1 ملین جلدی خلیات نکلتے جن کی سالانہ پیمائش 2 کلو وزن بنتی ہے۔
٭انسانی جسم کے 1 اسکوائر سینٹی میٹر تقریبا 100 پین سینسرز پر مشتمل ہوتا ہے۔
٭لڑکیوں کی زبان لڑکوں سے زیادہ ذائقوں میں تمیز کرنے کی اہل ہوتی ہے۔
٭ایک نارمل انسان اپنی پوری زندگی کے دوران تقریبا 35 تک کھانا کھاتا ہے۔
٭انسانی دماغ میں 1 سیکنڈ میں ایک لاکھ کیمیکل ری ایکشنز کام ہوتے ہیں۔
٭انسانی چھینک کی رفتار 160 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے۔

٭انسان جب ہنستا ہے تو اس کے چہرے کے 17 محرکات کام کرتے ہیں لیکن جب روتا ہے تو 43 محرکات کام کرتے ہیں۔
بشکریہ :برائٹ سائیڈ




















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔