قندیل بلوچ کے غیرت کے نام پر مبینہ قتل کو آج ایک سال مکمل ہوگیا
فائل فوٹوماڈل گرل قندیل بلوچ کے غیرت کے نام پر مبینہ قتل کو آج ایک سال مکمل ہو گیا،مقدمے کی تیس بار سماعت ہوئی مگرپولیس مکمل چالان پیش نہ کر سکی۔
سوشل میڈیا پر اپنی ویڈیوز سے شہرت پانے والی ماڈل گرل فوزیہ عظیم المعروف قندیل بلوچ کو گزشتہ سال سولہ جولائی کو ان کے آبائی گھر ملتان میں قتل کر دیا کر دیا گیا۔
ایک سال کاعرصہ گزرنے کے باوجود پولیس کی جانب سے مقدمہ کا چالان مکمل نہ کیا جا سکا۔ مبینہ طورپرغیرت کے نام پر قتل کا مقدمہ ریاست کی بجائے مقتولہ کے والد محمد عظیم کی مدعیت میں درج کیاگیا۔
مقدمے میں قندیل بلوچ کے کے بھائی وسیم، اسلم شاہین، رشتہ دارحق نوازاور ٹیکسی ڈرائیور ظفر کو ملزم نامزد کیا گیا۔
جبکہ مفتی عبدالقوی سمیت کئی افراد شامل تفتیش رہے، قندیل بلوچ کے مقدمے کی سماعت کیلئے تیس میں سے متعدد پیشیاں بغیرکارروائی کے ملتوی ہوئیں۔
دو ملزمان وسیم اور حق نواز زیر حراست جبکہ اسلم شاہین اور ظفر ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں۔ ظفر کو پہلی سماعت کے بعد دوبارہ نہ پیش ہونے پر عدالت اشتہاری قرار دے چکی ہے۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔