ٹیک آف اور لینڈنگ سے قبل موبائل فون کو فلائٹ موڈ پر کیوں کرتے ہیں؟

شائع 24 جولائ 2017 06:49am
فائل فوٹو فائل فوٹو

ٹیک آف اور لینڈنگ سے قبل جہاز کا عملہ تمام الیکٹرونکس آلات کو فلائٹ موڈ پر کرنے کو کہتا ہے۔ تاہم مسافر اکثر اس تجسس کا شکار رہتے ہیں کہ ٹیک آف اور لینڈنگ سے قبل الیکٹرونکس آلات کو فلائٹ موڈ پر کیوں کرایا جاتا ہے جبکہ اسمارٹ فون ایک چھوٹی سی ڈٖیوائس ہے اور اس کے برعکس جہاز اتنا ہائی ٹیک اور بڑا ہے۔

اگر آپ بھی اسی تجسس کا شکار ہیں تو گھبرائیں مت کیونکہ آج ہم آپ کو اسی کی حقیقت بتانے جا رہے ہیں کہ ایسا کیوں کیا جاتا ہے۔

موبائل فون کو فلائٹ موڈ پر کردینے سے آپ کا گیجٹ وائی فائی، جی ایس ایم اور بلوٹوتھ وغیرہ جیسی تمام سہولیات کو غیر فعال کردیتا ہے یا آسان لفظوں میں یہ کہا جائے کہ یہ آپ کے فون یا ٹیبلٹ کو ایک ریڈیو رسیور کی طرح کام کرنے سے روک دیتا ہے۔

فائل فوٹو فائل فوٹو

لیکن اگر آپ اس کو فلائٹ موڈ پر نہیں کریں گے تو اس سے نکلنے والے سگنلز جہاز کے انتہائی حساس الیکٹرانک آلات کے ساتھ مداخلت کرکے ایک بڑے نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔

اگر موبائل فون کا استعمال نہ کریں تو؟

جب ایک اسمارٹ فون کو رکھ دیا جاتا ہے اور آپ اسکا استعمال نہیں کر رہے ہوتے تو آپ اس بات کا تصور بھی نہیں کرسکتے ہوں گے کہ یہ اس وقت بھی نیٹ ورک کی تلاش میں رہتا ہے اور اس کی فریکوئینسی جہاز میں نصب آلات کی فریکوئینسی سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے جو ایک بہت بڑا نقصان کر سکتی ہے۔

تو یاد رہے اگر آپ کے موبائل میں فلائٹ موڈ کا آپشن نہ ہوتو اس کو لازمی بند کردیں۔

الیکٹرانک آلات کا استعمال پرواز کے دوران خطرہ کیسے ہے؟

فائل فوٹو فائل فوٹو

اس بات سے تو آپ بخوبی واقف ہوں گے کہ ٹیک آف اور لینڈنگ فلائٹ کے مشکل ترین مرحلے ہیں تاہم اس کام کی درستگی سے انجام دہی کیلئے پائلٹ (جہاز کا ڈرائیور) مسلسل فلائٹ کنٹرول سینٹر سے رابطے میں رہتا ہے۔ یہ روابط طیارے کے نیویگیشن سسٹم کے ذریعے کئے جاتے ہیں لیکن اگر آپ کا گیجٹ فلائٹ موڈ پر یا بند نہیں ہوگا تو وہ اس عمل میں مداخلت پیدا کرسکتے ہیں جس کی وجہ سے پائلٹ ٹریفک کنٹرولر کی جانب سے فراہم کردہ معلومات سن نہیں پائے گا اور یہ صورتحال ایمرجنسی کا باعث بن سکتی ہے۔

آپ پرواز کے دوران کن الیکٹرانک آلات کا استعمال کر سکتے ہیں؟

٭پرواز کے دوران آپ ہر اس الیکٹرانک ڈیوائس کا استعمال کرسکتے ہیں وائی فائی، جی ایس ایم اور بلوٹوتھ کے ذریعے ڈیٹا کا تبادلہ نہ کرسکتے ہوں۔ مثال کے طور پر الیکٹرانک گھڑیاں (اسمارٹ واچ نہیں)، کیمرہ، ویڈیو کیمرہ اور آواز کو ریکارڈ کرنے والے آلات۔

٭اس ڈیٹا ایکسچینج کی فعالیت کے ساتھ آلات بھی پرواز کے تمام مراحل میں استعمال کی جا سکتی ہیں، لیکن صرف فلائٹ موڈ پر ہی۔ ان میں اسمارٹ فونز اور اسمارٹ ویزز، ٹیبلٹس، ای بوکس، ڈیجیٹل آڈیو / ویڈیو پلیئر وغیرہ شامل ہیں۔ آپ پرواز کے دوران ایک لیپ ٹاپ کا بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ اگر چہ اس میں کوئی فلائٹ موڈ نہیں ہوتا لیکن اس کے وائی فائی کے آپشن کو بند کرنا لازم ہے۔

بشکریہ:برائٹ سائیڈ