کراچی میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیرِ آب، مختلف حادثات میں 6 افراد جاں بحق
کراچی میں موسلا دھار بارش کے بعد وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے، مختلف حادثات میں 6 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے ہیں۔ بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال جس کے پیشِ نظر شہر میں رین ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
کراچی کے مختلف علاقوں میں صبح ہونے والی طوفانی بارش کے بعد کئی مقامات پر سڑکیں زیرِ آب آگئیں، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
موسلا دھاربارش سے شہر میں موجود انڈر پاس پانی سے بھرگئے، جناح ایوینیو اور کریم آباد میں سڑکیں دھنس گئیں جب کہ کئی اہم سڑکوں پر نکاسی آب نہ ہونے کے باعث پانی جمع ہوگیا ہے۔
شارعِ فیصل نرسری کے مقام پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک تالاب کا منظر پیش کرنے لگی، گاڑیوں کی لمبی قطاروں کے باعث ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔
بارش کے باعث شہر میں کئی عمارتوں کے بیسمنٹ پانی سے بھر گئے جب کہ مختلف مقامات پر سڑکیں دھنسنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے گاڑیوں اور موٹرسائیکل سواروں کو مشکلات پیش آرہی ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق گرومندر، گارڈن، صدر، اولڈ سٹی ایریا، ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، نیو کراچی، گلشن اقبال، گلستانِ جوہر، اسکیم 33، ملیر، ماڈل کالونی، شاہ فیصل کالونی، ڈیفنس، کلفٹن، کورنگی اور لانڈھی میں تیز بارش ریکارڈ کی گئی۔
محکمہ موسمیات نے کراچی میں بارش کے اعداد و شمار بھی جاری کردیے ہیں جس کے مطابق سب سے زیادہ بارش، ناظم آباد میں 69 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔کیماڑی میں 56، سعدی ٹاؤن میں 48 اور یونیورسٹی روڈ پر 44 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
جناح ٹرمینل پر 35، سرجانی ٹاؤن میں 35، پی اے ایف فیصل بیس پر 30 جب کہ گلشن معمار میں 36 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
شہر کے مختلف علاقوں میں بارش کے دوران بجلی کے متعدد فیڈرز بھی ٹرپ کر گئے، جس کے باعث کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔
حکام کے مطابق نشیبی علاقوں میں حفاظتی اقدامات کےتحت بجلی بند کی گئی ہے جب کہ متعدد مقامات پر بارش کے دوران تاریں ٹوٹنے اور پی ایم ٹیز خراب ہونے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
متاثرہ علاقوں میں نیو کراچی، سرجانی ٹاؤن، اورنگی ٹاؤن، گارڈن، کورنگی، اسکیم 33، فیڈرل بی ایریا، گلشن اقبال، ملیر، شیر شاہ، بلدیہ ٹاؤن اور مواچھ گوٹھ سمیت دیگر علاقے شامل ہیں۔
کمشنر کراچی نے پانی کی نکاسی اور ٹریفک کی بحالی کے لیے اسسٹنٹ کمشنرز کو اپنے زیرِ نگرانی واٹر کارپوریشن، ٹاؤن ایڈمنسٹریشن اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے عملے اور مشینری کو متحرک کرنے کی ہدایت کر رکھی ہے۔
کمشنر کراچی نے کہا ہے کہ رین ایمرجنسی کے دوران تمام ادارے مکمل طور پر متحرک رہیں گے تاکہ شہریوں کو بروقت سہولیات فراہم کی جا سکیں اور بارش سے پیدا ہونے والے مسائل کو جلد حل کیا جا سکے۔
سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ٹیموں نے مختلف اضلاع میں امدادی کاموں اور شکایات کے ازالے کے لیے رین ایمرجنسی کے تحت ہیلپ ڈیسک اور کیمپس قائم کر رکھے ہیں۔
ضلع شرقی میں نرسری، نیپا چورنگی، نیشنل اسٹیڈیم، نمائش چورنگی، سمامہ چوک، مدراس چوک، صفورا چورنگی اور سہراب گوٹھ میں ہیلپ ڈیسک قائم کیے گئے ہیں۔
ضلع جنوبی میں ڈی سی آفس ایم اے جناح روڈ، شاہین کمپلیکس چوک، کے ایم ٹی مین آفس، ٹاؤن ایڈمنسٹریشن لیاری آفس اور چاکیواڑہ میں ایمرجنسی کیمپس نصب کیے گئے ہیں۔
ضلع کیماڑی میں ٹاؤن آفس بلدیہ، ڈی سی آفس کیماڑی، ٹرک اسٹینڈ، ماری پور اور گلبرگ انٹرچینج سائٹ پر ایمرجنسی کیمپ لگائے گئے ہیں۔
ضلع وسطی میں گلبرگ سب ڈویژن کے واٹر پمپ عائشہ منزل سمیت دیگر مقامات پر رین ایمرجنسی کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔
ضلع کورنگی میں ماڈل کالونی، کالا بورڈ، نیشنل ہائی وے، سعودآباد چورنگی، لانڈھی، فشرمین چورنگی، شاہ فیصل ٹی ایم سی اور بوائز اسکول کالونی نمبر 2 میں بھی ہیلپ ڈیسک اور ایمرجنسی کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ شہر میں صبح سے ہلکی اور درمیانی بارش کا سلسلہ جاری تھا، تاہم دوپہر کے وقت موسلا دھار بارش کے باعث مختلف سڑکیں زیرِ آب آگئیں۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شہر کا مطلع زیادہ تر ابر آلود رہے گا جب کہ مزید تیز ہوائیں چلنے کا بھی امکان ہے۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔