بولی ووڈ کیلئے انگلش ونگلش ضروری نہیں؟

شائع 31 اگست 2017 02:45pm
File Photo File Photo

بولی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت سے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران پوچھا گیا کہ ان کے آبائی قصبے منڈی اور ممبئی میں کیا فرق ہے تو ان کا کہنا تھا کہ منڈی جیسے چھوٹے شہر میں آپ کو یہ فکر رہتی ہے کہ آپ کے موسا جی، ماما اور پھوپو اور پڑوسی آپ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں جبکہ ممبئی جیسے بڑے شہر میں کچھ اور ہی فکر ہوتی ہے کہ آپ نے کتنے پیسے کمائے اور اس سے کیا خرید پائے۔

کنگنا کا تعلق ریاست ہماچل پردیش کے ایک چھوٹے سے شہر منڈی کے ایک قدامات پسند راجپوت خاندان سے ہے۔ اس شہر میں لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، عورتیں مردوں کے سامنے گھونگھٹ پہنتی ہیں اور گھر کے مردوں کے بعد ہی کھانا کھا سکتی ہیں۔

اس ماحول میں کنگنا نے اپنی شرطوں پر زندگی گزارنے کی جرات کی۔ کالج میں سکرٹ پہننے پر ان کے والدین کو شکایت ہوتی تھی اور ان کی والدہ کو اس بات کا طعنہ دیا جاتا تھا کہ انھوں نے اپنی بیٹی کی اچھی تربیت نہیں کی۔

بولی ووڈ میں بھی کنگنا کا سفر آسان نہیں تھا۔  دوہزار چھ میں فلم گینگسٹر سے اپنے کریئر کا آغاز کرنے والی کنگنا رناوت ہمیشہ سے ہی انڈسٹری کے لوگوں اور میڈیا کی جانب سے تمسخر کا نشانہ بنتی رہیں، کبھی اپنے قدرے دیہاتی پس منظر کی وجہ سے تو کبھی اپنی انگلش بولنے کی کوششوں کی وجہ سے۔

تین نیشنل ایوارڈ حاصل کرنے والی کنگنا کا کہنا ہے کہ بولی ووڈ میں ایسی ہیروئنز کے لیے بے پناہ مواقع ہوتے ہیں جنہیں ہندی نہیں آتی لیکن ایسی اداکاراؤں کو اپنی جگہ بنانے میں مشکل ہوتی ہے جنہیں انگلش نہیں آتی۔

فلم ’کوئن‘ اور ’تنو ویڈ منو‘ جیسی کامیاب فلمیں کرنے والی کنگنا اب اپنی اگلی فلم ’سِمرن‘ کی پروموشن کی تیاری میں مصروف ہیں۔

Courtesy: BBC Urdu