فلم جسے حقیقی روپ دینے کے لئے 2 مسلمانوں کی جان لے لی گئی

شائع 03 اکتوبر 2017 09:26am

hang

فلم کو حقیقی روپ دینا ہر فلمساز کا اہم مقصد ہوتا ہے یہ ہی وہ جز ہے جو عام سی فلم کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، ایسی ہی ایک فلم 1950 میں بنائی گئی ،'دی بلیک روز' نامی امریکی فلم کی شوٹنگ کے دوران کچھ مناظر مراکش میں فلمائے جانے تھے۔

فلم میں شوٹنگ کے دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا جسے سن کر لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو گئے، فرانسیسی کرائے کے ہدایتکار" لویس مورین" نے گُڑیوں یا پتلوں کے بجائے دو حقیقی انسانوں (دو مسلمانوں) کو اپنی فلم کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیے پھانسی دی۔
پھانسی دینے کے بعد ان کی لاشیں درخت پر لٹکا کر یہ فلم بنائی گئی۔ پھانسی دینے کی وجہ یہ تھی کہ وہ گڑیوں کی جگہ اصل انسانوں کو پھانسی دے کر فلم کو حقیقت کے زیادہ قریب کرنا چاہتے تھے تاکہ دیکھنے والے اس سے زیادہ محظوظ ہوسکیں۔

پھانسی دیئے گئے دونوں مسلمان دیہاتی تھے جنہیں پکڑ کر تختہ دار پر لٹکادیا گیاجس کے بعد فرانسیسی فوج نے ان لاشوں کو فوج کی جانب سے امریکی فلمساز "اریسونویلز" کے لیے تحفہ قرار دیا۔

 اریسونویلز اس فلم کے ہیرو تھے اورفرانس کے فوجی افسران کو بے حد پسند بھی تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے دونوں لاشوں کو فرانسیسی فوج کی جانب سے تحفہ قرار دیا۔

یاد رہے یہ دنیا کی وہ واحد فلم ہے جس میں ایک سین کو فلمانے کی خاطر حقیقی انسانوں کو پھانسی دی گئی لیکن پھر بھی یہ لوگ خود کو مہذب کہلواتے ہیں۔