ریلیز سے قبل تنازعات کا شکار ہونے والی 10 بولی وڈ فلمیں
بولی وڈ فلمیں اپنے مواد اور مشہور اداکاروں کی وجہ سے بے حد مقبول ہیں۔ فلم ساز ہر فلم کو نیا رنگ دینے کے لئے کافی بولڈ اقدامات اٹھاتے ہیں یہ فیصلے کبھی تو بہت کامیاب قرار پاتے ہیں جبکہ کچھ بیک فائر کرجاتے ہیں۔
آج ہم آپ کو بولی وڈ کی ان فلموں کے بارے میں بتانے جارہے ہیں جنہوں نے ریلیز سے قبل ہی کئی بڑے دھماکے کئے اور مختلف تنازعات میں گھری رہیں۔
یہ بات تو آپ بھی جانتے ہوں گے کہ سنجے لیلا بھنسالی کی آنے والی فلم 'پدماوتی' اب تک ریلیز تو نہیں ہوئی تاہم مختلف تنازعات کا شکار ضرور ہوگئی ہے۔ فلمساز کے پٹنے اور سیٹ کو جلانے کے ساتھ ساتھ شاید ہی کوئی ایسی پریشانی ہو جو یہ فلم بنانے والوں نے سہی نہ ہو۔ ایک بھارتی تنظیم کی جانب سے فلم میں حقیقی تاریخ کو غلط رنگ میں دکھانے پر آواز اٹھائی گئی۔ تاہم پھر بھی اس فلم کو بنانے والوں نے اس بات کا یقین دلایا ہے کہ فلم 1 دسمبر کو ہی ریلیز کردی جائے گی۔

رنویر سنگھ اور دپیکا کی ایک اور فلم 'باجی راؤ مستانی' بھی کئی تنازعات کا شکار ہوئی۔ اس فلم کو بھی تاریخ کی حقیقت اور ڈائیلاگز تبدیل کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس فلم میں کرداروں کی ڈریسنگ پر بھی اعتراض کیا گیا۔ تاہم فلم ریلیز بھی ہوئی اور باکس آفس پر ہِٹ بھی قرار پائی۔
گولیوں کی راس لیلا، رام لیلا

اس فلم کے نام میں رام کا استعمال کیا گیا جن کا ہندو بہت احترام کرتے ہیں۔ یہ بات سامنے آئی تھی کہ مذہبی رہنما اس فلم کے بننے سے کافی ناراض تھے اور انہوں نے فلم کے ڈائیریکٹر کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کرائی تھی۔ حالانکہ ڈائیریکٹرز نے عوام کو اس بات کی یقین دہانی بھی کرائی تھی کہ رام کے کریکٹر سے اس فلم کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔

بھارتی ریاست 'اُڑی' میں حملے کے بعد سینما اونرز نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ کوئی ایسی فلم ریلیز نہیں ہونے دیں گے جس میں پاکستانی اداکار نے کام کیا ہو۔ اس فلم میں پاکستان کے صف اول کے اداکار فواد خان نے بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے تھے۔ اس فلم کی ریلیز کا معاملہ کافی عرصے تک کھٹائی کا شکار رہا اور ڈائیریکٹرز کو سیاسی گروپس کی جانب سے دھمکیوں کا بھی سامنا رہا لیکن کافی ہنگامہ ہونے کے بعد فلم کو ریلیز کر ہی دیا گیا۔
دی ڈرٹی پکچر

قواعد و ضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے اس فلم کا غیر اخلاقی پوسٹر ہم نے نہیں لگایا ہے۔۔
اس فلم میں ساؤتھ انڈین اداکارہ سلک اسمیتھا کی زندگی کو زیر بحث لایا گیا تھا۔ اس فلم کے کردار کو ایک غیر اخلاقی روپ میں دکھایا گیا تھا جو انگلیاں اٹھنے کے لئے کافی تھا۔ لیکن سب سے زیادہ گھمبیر صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب فلم کا پوسٹر شائع کیا گیا۔ پوسٹر کی اشاعت کے بعد سلک کے بھائی نے فلمسازوں کو نوٹس بھجوادیا لیکن اس تمام تر صورتحال کے باوجود فلم ریلیز بھی ہوئی اور عوام نے ودیا بالن کے اس کردار کو بہت پسند بھی کیا۔
برفی

یہ مووی اس وقت تنازعات کی زد میں آئی جب دیکھنے والوں نے اس میں چارلی چیپلن کی موویز کے کاپی ہوئے کچھ سینز دیکھے۔ تاہم فلمساز انوراگ باسو نے فوراً اس کی وضاحت کچھ اس طرح پیش کی کہ ہم نے یہ سینز چارلی چیپلن کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے کاپی کئے ہیں۔ ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد فلم ریلیز کی گئی اور یہ ایک بلاک بسٹر ثابت ہوئی۔
اُڑتا پنجاب

اس فلم کا مضمون ہی اپنے آپ میں ایک مسئلہ تھا۔فلم میں ریاست پنجاب میں منشیات کے استعمال کو موضوع بنایا گیا تھا۔ سینسر بورڈ میں جب فلم کو پیش کیا گیا تو انہوں نے فلم سے کئی اہم سینز کو نکالنے کی تجویز دی اور کہا گیا کہ ایسی زبان کا استعمال عوام کے لئے درست نہیں۔ لیکن فلمساز اپنے مؤقف پر قائم رہے اور کہا کہ ہمیں پنجاب کے اس مسئلے کو سامنے لانا ہے چھپانا نہیں ہے۔ مگر افسوس یہ فلم بھی ریلیز سے قبل ہی لیک ہوگئی۔
پی کے

اس فلم نے تمام مذاہب کے ماننے والوں کو ایک پیج پر لا کھڑا کیا۔ تمام ہی مذاہب کے ماننے والوں نے اپنے اپنے مذاہب پر لگائی گئی تہمات کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ تاہم اس ہنگامہ آرائی کے بعد بھی فلم ریلیز ہوئی اور کامیاب ترین فلموں کی لسٹ میں شامل ہوئی۔
قربان
فلم کے پوسٹر پر کرینہ کپور کی ننگی کمر سے ہی مشکلات کا دور شروع ہوگیا۔ ہندو انتہاپسند تنظیموں کی جانب سے کرینہ کی سیف کے ساتھ ننگی کمر والی تصویر پر سخت احتجاج کیا گیا۔ اس کے علاوہ فلم کے پوسٹرز ملک کے مختلف حصوں سے اتار بھی دیئے گئے۔ یہاں تک کے ایک پارٹی کی جانب سے جسم کو ڈھانپنے کے لئے کرینہ کو ساڑھی بھی بھجوادی گئی۔
لپسٹک انڈر مائی برقع

اس فلم کو کافی مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد بھارت میں ریلیز کی اجازت ملی۔ نہ صرف سی بی ایف سی نے فلم کو سرٹیفکیٹ دینے سے منع کیا بلکہ فلم کی ریلیز کو بین تک کردیا تھا۔ غیر اخلاقی سینز اور گالم گلوچ سے بھرپور ڈائیلاگز کے باعث سی بی ایف سی نے فلم پر پابندی کا طلاق کیا تھا لیکن جب فلم ریلیز ہوئی تو مداحوں اور تنقید کرنے والوں نے بھرپور پذیرائی کی۔
Thanks to misskyra


















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔