معروف ادیب انتظار حسین کی زندگی پر رپورٹ

شائع 02 فروری 2016 04:51pm

intizar_image

لاہور :پاکستانی ادب کے آسمان کا بے مثل اور سب سے روشن ستارہ آج غروب ہوگیا، انتظار حسین کو صوفی اور فلاسفر بھی کہا گیا لیکن وہ خود کو فکشن رائٹر کہلوانا پسند کرتے تھے۔

انتظار حسین کو ان کی زندگی ہی میں اردو ادب کا گراں ترین سرمایہ قرار دیا گیا، انہیں صوفی اور فلاسفر بھی کہا گیا لیکن انتظار حسین کا کہنا تھا کہ انہیں فکشن رائٹر ہی کہا جائے۔

انہوں نے کہا اگر کسی کو میرے فکشن میں صوفی ازم یا فلسفہ نظر آتا ہے تو اس کا ذمے دار میں نہیں ہوں۔ کہانی ایک طرح نازل نہیں ہوتی، اس کے مختلف حالات ہوتے ہیں۔

انتظار حسین کو ستارہی امتیاز، پرائیڈ آف پرفارمنس سمیت متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ وہ پہلے پاکستانی ہیں جنہیں عالمی بکر پرائز ایوارڈ کیلئے سن دو ہزار تیرہ میں شارٹ لسٹ کیا گیا۔ انہیں فرانس کی جانب سے سن دو ہزار چودہ میں آفیسر آف دی آڈر آف آرٹس اینڈ لیٹرز کا ایوارڈ دیا گیا۔

ان کے چار ناول، افسانوں کے آٹھ مجموعے، ناولٹ، آپ بیتی اور اردو کالم بھی کتابی شکل میں شائع ہوئے۔ ان کے ایک ناول اور چار مجموعوں کا انگریزی میں بھی ترجمہ کیا گیا۔

انتظار حسین کو چند روز قبل نمونیا کی وجہ سے لاہور کے اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں وہ زیر علاج رہے تاہم جانبر نہ ہوسکے اور انتقال کرگئے، مرحوم کی نماز جنازہ کل ادا کی جائے گی۔