معین اختر کو مداحوں سے بچھڑے آج سات برس بیت گئے
پاکستان کے عظیم فنکار معین اختر -فائل فوٹولاہور: معین اختر پاکستان ٹیلی ویژن کے وہ ناموراداکار ہیں جن کے یادگار کردار آج بھی لوگوں کے چہروں پر خوشیاں بکھیر دیتے ہیں۔ معین اختر کو مداحوں سے بچھڑے آج سات برس بیت گئے۔
دسمبر 1950 کو کراچی میں پیدا ہونے والے معین اختر نے سولہ برس کی عمر میں اسٹیج سے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا۔
کیریئر کے ابتدائی دنوں میں معین اختر نے پیروڈی سے لوگوں کے دلوں میں گھر کیا۔ بعد ازاں انھوں نے طنزو مزاح کے ساتھ سنجیدہ اداکاری میں بھی شائقین کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔
معین اخترکے یادگار ڈراموں میں روزی، ہاف پلیٹ، شو ٹائم، اسٹوڈیو ڈھائی، ففٹی ففٹی، آنگن ٹیڑھا، انتظار فرمائیے اور عید ٹرین شامل ہیں۔
معین اختر کو ان کی ہمہ جہت فنکارانہ صلاحیتوں کی وجہ سے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سمیت کئی اہم قومی اور بین الاقوامی سطح ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔
معین اختر وہ پہلے پاکستانی فنکارہیں جن کا لندن کےمشہورعجائب گھرمادام تساو میں مومی مجسمہ نصب کیا گیا۔
بائیس اپریل دو ہزار گیارہ کو معین اختر کراچی میں دل کا دورہ پڑنے سے خالق حقیقی سے جاملے۔ اور اپنے مداحوں کو اداس کرگئے۔













اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔