پودوں کی مدد سے پر سکون نیند پائیے
لوگ اپنے گھر کو سجانے کے لیے کئی ڈیکوریشن کی چیزیں خرید لاتے ہیں، خواہ وہ کتنی ہی مہنگی کیوں نہ ہو۔گھر کی سجاوٹ کے لیے کچھ لوگ پودوں کا بھی سہارا لیتے ہیں، پودے یقینا گھر کی سجاوٹ میں چار چاند لگا دیتے ہیں۔
پودوں کو گھر میں لگانے کے کئی فائدے ہیں، جیسے اس سے گھر میں چھوٹے چھوٹے کیڑے مکوڑے نہیں آتے ، گھر میں اچھی اور بھینی بھینی خوشبو رہتی ہے اور پودے گھر میں لگانے ایک فائدہ ایسا ہے جو شاید آپ نہیں جانتے ہونگے،کیا آپ کو معلوم ہے کہ کچھ پودوں ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو آپ گھر میں لگا لیں تو آپ پرسکون نیند پا سکتے ہیں۔
جی با لکل! یہ سچ ہے کہ اگر آپ ان پودوں کو گھر میں لگائیں گے تو آپ رات بھر بہترین نیند حاصل کر سکتے ہیں، وہ کون سے پودے ہیں جو آپ کو پرسکون نیند فراہم کر سکتے ہیں۔۔۔
آیئے جانتے ہیں۔۔۔
ایرسا پام (Areca palm)
یہ پودا گھر میں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور ٹاکسن کو دور بھگا دیتا ہے اور گھر میں موجود ہوا کو ترو تازہ بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔اس پودے سے ہوا میں نمی بھی پیدا ہوتی ہے ، جس سے سردیوں میں ہونے والی خشکی ختم ہوجاتی ہے۔
ایلوویرہ ( Aloe Vera)
ایلو ویرہ کے بے تحاشہ فوائد ہیں، یہ ایک ایسا پودا ہے جس کو کھایا بھی جا سکتا ہے اور چہرے پر بھی لگایا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ پودا آپ کے ماحول کے لیے بھی بہت فائدہ مند ہوتا ہے۔
فائکس بینجامینا (Ficus Benjamina)
یہ پودا ہوا کو پاک و صاف بنانے میں پہلے نمبر پر آتا ہے۔یہ پودا ہو ا میں سے بینزین ، امونیا، ٹولیون اور دیگر خطر ناک مواد ہوا میں سے ستر فیصد ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس کے علاوہ یہ پودا وہ تمام مواد ہوا میں سے ختم کردیتا ہے جس کے باعث آپ کے نیند میں خلل پیدا ہوتا ہے اور ساتھ ساتھ یہ پودا دکھنے میں بھی بہت خوبصورت ہوتا ہے اس لیے اس پودے کو آپ باآسانی کمرے میں بھی سجا سکتے ہیں۔
سانسے وی ایریا (Sansevieria)
یہ پودا آپ کے مدافعتی نظام اور نظام تنفس کے لیے بے حد فائدہ مند ہے۔اس کے علاوہ یہ پودا سر درد اور ہائی بلڈ پریشر ختم کرنے میں بھی بہت مددگار ہوتا ہے۔یہ پودا بھی ایلو ویرہ کی طرح رات میں آکسیجن بناتا ہے اور کاربن ڈائی آکسائیڈکو ختم کرتا ہے۔
بوسٹن فرن (Boston Fern)
اس پودے میں موجود تیل بہت فائدہ مند ہوتا ہے۔یہ پودا آپ کے عصبی نظام کے لیے اچھا ہوتا ہے اور ساتھ ساتھ یہ پودا آپ کو ذہنی سکون فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔























اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔