آسکر یافتہ صبا کی آواز کی دنیا میں گونج
اسلام آباد:آسکر ایوارڈ جیتنے والی فلم کی مرکزی کردار صباءمقصود کا تعلق حافظ آباد سے ہے جس کی ظلم کے خلاف جدوجہد سرحدوں سے پار بھی جا پہنچی ، صبا کی صداو¿ں نے پاکستان میں خواتین کے حقوق کیلئے قانون سازی کا راستہ بھی کھول دیا۔حافظ آباد کی اٹھارہ سالہ صباءمقصود کو پانچ جون دوہزار چودہ کی رات پسند کی شادی کرنے کی سزا دی گئی۔
اہلخانہ نے صباءپر فائرنگ کی لیکن بروقت سر کو جنبش دینا صباءکی جان بچا گیا۔گولی اسکے سر کے بجائے دائیں گال کو چیرتے ہوئے گزرگئی۔گھروالوں نے زخمی صباءکو بوری میں بند کر کے نہر میں پھینک دیا،اور یہی واقعہ شرمین عبید چنائے کی فلم کا عنوان بنا۔
صباءمعجزانہ طور پر بچ گئی اور پھر اس کی درخواست پر اسکے والد،چچا،بھائی کوگرفتار کرلیا گیا، اس نڈر خاتون کی کہانی نے آسکر ایوارڈ جیت کر ناصرف نام نہاد غیرت کو شکست دے دی بلکہ عورت کے حقوق کیلئے قانون کے راستے کھول دیئے ہیں۔شرمین عبید چنائے کی فلم نے حقوق نسواں اور عورت کے خلاف مظالم پر پاکستانی معاشرے کو بھی جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔