دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
تحریر: مہدی قاضی
سولہ دسمبر پاکستان کی تاریخ میں ایسا دن ہے جس میں ایک بار ملک ٹکڑے ہوا اور دوسری بار کئی ماں باپ کے جگر کے ٹکڑے۔ایسی بربریت جو تاریخ میں بھی شاید ہی دیکھنے کو ملے۔ فرعون نے بھی اپنی رعایا کے صرف بیٹوں کو قتل کرایا تھا۔ رسول اﷲ ﷺ سے قبل زمانہ جاہلیت میں کچھ قبائل اپنی بیٹیوں کو قتل کیا کرتے تھے۔ مگر اسلام کا الم اٹھا کر کبھی بھلا کسی نے اس طریقے سے بچوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔
ایک سو چوالیس چہکتے پھول، جو اپنے والدین کے چمن کو مہکائے ہوئے تھے،توڑدیے گئے۔ جنکی مہک اب کبھی اپنے والدین کا چمن نہیں مہکائے گی۔ مگر ان پھولوں کی سوکھی پتیاں انکی آنکھیں نم ہونے کا سبب ضرور بنیں گی۔
مجھے اس واقعے کی تفصیلات میں نہیں جانا۔ مجھے تو بس اپنے اندر موجود رنج و الم کا اظہار کرنا ہے۔ مجھے اس بات کا پرچار کرنا ہے کہ واقعی قلم کا وار تلوار کے وار سے زیادہ گہرا ہوتا ہے مجھے یہ اعلان کرنا ہے کہ میری قوم کا بچہ بچہ مادرِ وطن پر ہونے والی بزدلانہ کارروائیوں کے خلاف ڈٹ گیا ہے۔مجھے یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کو بدنام کرنے والوں کے حقیقی چہرے سامنے آگئے ہیں۔ ان باطلوں کی مثال بالکل اس گدھے کی طرح ہے جس نے شیر کی کھال اوڑھ رکھی ہو اور جذبات میں دہاڑنے کے بجائے بھونکنا شروع کر دے۔
ایک سپاہی جب افواج کا حصہ بنتا تو یہ عزم کر کے بھرتی ہوتا ہے کہ پاک سر زمین کی بقا کی خاطر جان کی بھی پرواہ نہیں کرے گا اور دشمن اگر اس سپاہی کو نشانہ بنانے کے بجائے بچے، بوڑھے ےعورت کو نشانہ بنائے تو صاف ظاہر ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس قوم کے ہر فرد کے اندر ایک سپاہی موجود ہے۔انکا یہ سوچنا ہمارے حوصلوں کو پست نہیں کرتا بلکہ اور تقویت بخشتا ہے۔ اپنے عزائم میں مضبوط سے مضبوط تر کرتا ہے اور ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم للکار اٹھیں،
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
رہی بات انہیں خراج دینے کی تو وہ سکت تو ہم میں ہے ہی نہیں۔وہ معیار کہاں سے لائیں،وہ بلند ہمتی کہاں سے لائیں۔کبھی کبھی تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہم میں اور ان مجرمان میں کوئی فرق نہیں۔ ہمیں محض زبانی خراج تحسین دے کر بوجھ اتارنے سے بہتر ہے کہ ہم آوازہوجائیں اور مجرمان کو عبرت کا نشان بنانے کا مطالبہ کریں تاکہ مستقبل میں کسی کی ہمارے بچوں پر انگلی اٹھانے کی ہمت نہ ہو۔


















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔