Aaj TV News

BR100 4,349 Increased By ▲ 3 (0.08%)
BR30 22,124 Increased By ▲ 41 (0.19%)
KSE100 41,860 Increased By ▲ 54 (0.13%)
KSE30 17,663 Increased By ▲ 5 (0.03%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 309,015 798
DEATHS 6,444 7

اسلام آباد:سینیٹ نے انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020 مسترد کردیا ،بل کی مخالفت میں 34 جبکہ حق میں 31ووٹ پڑے۔

چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا،جس میں انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020 پیش کرنے کی تحریک پیش کی گئی ، تحریک سینیٹرسجاد طوری نے پیش کی جبکہ ایوان نے تحریک پیش کرنے کی منظوری دےدی۔

سینیٹ نے گزشتہ روز قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا انسداد دہشتگردی ترمیمی بل کثرت رائے سے مسترد کردیا ،بل کی مخالفت میں 34 اورحق میں31 ووٹ آئے ۔

سینٹر مشتاق احمد نے کہا کہ حکومتی پالیسی ٹیپوسلطان کی نہیں بہادرشاہ ظفروالی ہیں،ایف اے ٹی ایف پر سکرپٹ پرجیٹ جہازکی رفتارسے پاس بل پاس ہوا ہے ،پیپلزپارٹی اورن لیگ ایف اے ٹی ایف پرپس پردہ ملاقاتیں چھوڑدیں۔

سینیٹ میں کالعدم تنظیموں کی املاک ، مدارس، اسپتال منجمد کرنے کی تفصیلات بھی پیش کی گئیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ کالعدم تنطیموں کے 383مدارس، 188ڈسپنسریاں، 76سکولز،4کالجز، 15اسپتال منجمد کئے ۔

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہاکہ حکومت عوام کی نہیں اقوام متحدہ کی ترجمانی کررہی ہے۔

سینیٹرسراج الحق نے تنقید کی تو علی محمد خان نے کہا کہ وزارت داخلہ نے وزارت خارجہ کی فراہم کردہ فہرست پرپانبدی لگائی ، موجودہ حکومت ڈکٹیشن لینے والی نہیں ہےعالمی اداروں کے تقاضے پورے کرنا پڑتے ہیں۔

سینٹرمشاہد اللہ خان نے کہا کچھ ایسے لوگوں کو صدارتی ایوارڈ دیا گیا جس کے وہ مستحق نہیں تھے، جاوید آفریدی کوصرف کرکٹ ٹیم کے مالک ہونے کی وجہ سے ایوارڈ دیا گیا ، مہوش حیات کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔

بابراعوان نے کہا کہ جنہوں نے کرکٹ کیلئے خدمت کی انہیں ایوارڈ ملنا چاہیے۔

سینیٹ نے آپریٹوسوساٹیزترمیمی بل 2020منظور کیا،چیئرمین سینیٹ نے اجلاس جمعے کی صبح ساڑھے 10 بجے تک ملتوی کردیا ۔