'مودی کا بھارت خطے میں امن کےلئے سنگین خطرہ ہے'

آزاد جموں وکشمیر کے صدر نے کہا کہ گزشتہ سال پانچ اگست کو آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد 17 لاکھ ہندوئوں کو کشمیر میں آباد ہونے کا حق دیا گیا ہے۔
شائع 21 ستمبر 2020 07:47pm

آزادجموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے امن کے نام نہاد عالمی نگہبانوں پر زور دیا ہے کہ وہ غیرقانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی مظالم اور قتل عام پر اپنی خاموشی توڑیں۔

انہوں نے کہا کہ مودی کا بھارت خطے میں امن کےلئے سنگین خطرہ ہے۔

آزاد جموں وکشمیر کے صدر نے کہا کہ گزشتہ سال پانچ اگست کو آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد 17 لاکھ ہندوئوں کو کشمیر میں آباد ہونے کا حق دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نہتے کشمیری اپنے حق خودارادیت کےلئے لڑتے رہیں گے اور زمیں پر کوئی طاقت انہیں آزادی کا بنیادی حق حاصل کرنے سے نہیں روک سکتی۔

انہوں نے کہا کہ وہ دن آب دور نہیں جب کشمیری آزادی کا سورج طلوع ہوتا دیکھیں گے۔

کشمیر کے بارے میں پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین شہریار آفریدی نے کہا کہ پاکستان نے دنیا میں امن کےلئے 30لاکھ افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔

کشمیر کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریگا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نہتے کشمیریوں کےلئے آواز اٹھانے کی غرض سے پیشگی اقدامات کرنے کی سوچ رکھتے ہیں۔

انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے کہا کہ وہ آگے آئیں اور کشمیر کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔

ریڈیو پاکستان