Aaj TV News

COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 326,216 736
DEATHS 6,715 13

اسلام آباد:‏سپریم کورٹ نے سانحہ آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس)سے متعلق جوڈیشل کمیشن رپورٹ پبلک کرنے کا حکم دے دیااور اٹارنی جنرل کے کمنٹس بھی عام کرنے کی ہدایت کردی۔

چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں سانحہ آرمی پبلک اسکول سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

اٹارنی جنرل نے انکوائری کمیشن رپورٹ پر جواب جمع کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ واقعے میں ذمہ دارافراد کیخلاف ہرممکن کارروائی کی جارہی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کس کی غفلت سے واقعہ ہوا، کس نے معلومات نہیں دیں ،پتا چلانا چاہیئے ،اٹارنی جنرل صاحب اوپر سے کارروائی کا آغاز کریں، ذمہ داران کیخلاف سخت کارر وائی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچ سکیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ سانحہ آرمی پبلک اسکول پوری قوم کا دکھ ہے۔

آرمی پبلک اسکول پشاور کے شہدا کے والدین عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ ساری عمر نیچے والوں کا احتساب ہوا،اس واقعے میں سپریم کورٹ اوپر والوں کو پکڑے نیچے سب ٹھیک ہوجائے گا،منصوبہ بندی کے ساتھ بچوں کو ایک ہی ہال میں جمع کیا گیا۔

والدین نے الزام لگایا کہ واقعہ دہشتگردی نہیں بلکہ ٹارگٹ کلنگ تھا، ہمارے بچے واپس نہیں آئیں گے ،چاہتے ہیں کسی اور کے بچوں کے ساتھ ایسا واقعہ نہ ہو۔

جس پرجسٹس فیصل عرب نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں سیکیورٹی میں غفلت کے ذمہ داروں کو بھی سزا ملے، اس کیس کو ہم چلائیں گے۔

عدالت نے سانحہ آرمی پبلک اسکول سے متعلق جوڈیشل کمیشن رپورٹ پبلک کرنے اور اٹارنی جنرل کی رپورٹ پر کمنٹس کو بھی پبلک کرنے کا حکم دیتے ہوئے امان اللہ کنرانی کو عدالتی معاون مقررکردیا ۔

عدالت نے کیس کی سماعت ایک ماہ تک ملتوی کرتےہوئے انکوائری کمیشن رپورٹ اور حکومتی جواب کی کاپی شہدا کے والدین کو فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے والدین کی درخوست پر16دسمبر کو پشاور میں دعائیہ تقریب میں شرکت کی دعوت بھی قبول کر لی۔