Aaj TV News

COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 327,063 847
DEATHS 6,727 12

اسلام آباد:چڑیا گھرمیں جانوروں کی ہلاکت کے کیس میں اسلام آبادہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ کرپشن اس حد تک آگئی ہے کہ جانوروں کے کھانے کوبھی چوری کیا جا رہا ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس طہر من اللہ نے چڑیا گھرمیں جانوروں کی ہلاکت اورذمہ داروں کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے چیئرمین وائلڈ لائف بورڈ سے استفسارکیا کہ ہاتھی اورریچھوں کا کیا بنا؟ جس پر چیئرمین وائلڈ لائف بورڈنے بتایا کہ معائنے کے بعد ہاتھی کوسفرکیلئے بالکل فٹ قراردیا گیا، ہاتھی کو ہر صورت کمبوڈیا بھیجنا ہی پڑے گا۔

چیئرمین وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈنے بتایا کہ کاون ہاتھی کوکمبوڈیا بھیجنے کی تیاری مکمل ہورہی ہے، ریچھ رکھنے کی ذمہ داری کسی صوبے نے نہیں لی، شرمندہ ہوکرکہہ رہا ہوں کہ ہمیں ریچھ بھی بیرون ملک بھیجنے پڑیں گے۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاکہ اس معاشرے میں مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، چڑیا گھرمیں جانوردکھانے کی بجائے تھیٹرمیں ڈرامے دکھائیں، یہ عدالت فیصلہ دے چکی کہ اب چڑیا گھرہوہی نہیں سکتا، بچوں میں ہمدردی پیدا کریں۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے مزید کہا کہ شیربھی چڑیا گھرمیں بہت تشویشناک حالت میں تھے ،آج تک کسی نے بتایا ہے کہ اسلام نے جانوروں کوکیا حقوق دئیے ہیں، کرپشن اس حد تک آگئی ہے کہ جانوروں کے کھانے کوبھی چوری کیا جا رہا ہے، اس سے زیادہ کیا ہوگا کوئی بھی اپنے آپ کوبدلنے کیلئے تیارنہیں، بچوں کواسکولوں میں جانوروں کے حقوق کے حوالے سے پڑھایا جانا چاہیئے، کل پہلی دفعہ ہاتھی کو بہتر حالت میں دیکھا گیا ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد نے کہاکہ اگرمعاشرے میں جانوروں سے ہمدردی ہے توبچوں کے ساتھ زیادتیاں اورریپ کے کیس نہ ہوں، جس معاشرے میں جان کی قیمت نہ ہووہاں اس طرح کے جرائم ہوتے ہیں ،جوزندگی کی قدرکرےگا وہ جانورکوبھی کچھ نہیں کہے گا، جوجانورکا خیال رکھے گا وہ بچے اورخاتون کا بھی خیال رکھے گا، وہ ایسا گھناؤنا جرم نہیں کرے گا۔