Aaj TV News

COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 324,077 618
DEATHS 6,673 14

لاہور:پنجاب حکومت نے شوگر فیکٹریز ترمیمی آرڈیننس 2020 جاری کردیا،گنے کے کاشتکاروں کے واجبات کی ادائیگی میں تاخیر پر 3 سال قید اور50 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔

شوگر مافیا کو کنٹرول کرنے کیلئے پنجاب حکومت کا اہم اقدام سامنے آیا ہے،صوبائی حکومت نے شوگر فیکٹریز ترمیمی آرڈیننس 2020 جاری کردیا،آرڈیننس کے ذریعے پنجاب شوگر فیکٹریز ایکٹ 1950 میں بنیادی تبدیلیاں کی گئی ہیں ۔

ترمیمی آرڈیننس کے تحت کاشتکاروں کے واجبات کی ادائیگی میں تاخیر اور غیر قانونی کٹوتی پر 3 سال قید اور 50 لاکھ جرمانہ ہوگا،شوگر مل گنے کی وصولی کی باضابطہ رسید جاری کرنے کی پابند ہوگی،گنے کے واجبات کاشتکار کے اکاؤنٹ میں بھیجے جائیں گے،کنڈہ جات پر شوگر مل کے ایجنٹ باضابطہ رسید جاری کرنے کے پابند ہوں گےاورملزم کی جانب سے کسانوں کو کچی رسید جاری کرنا جرم ہوگا۔

آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ کین کمشنر کو کاشتکاروں کے واجبات کا تعین اور وصولی کا اختیار دیا گیاہے ،واجبات کی وصولی بذریعہ لینڈ ریونیو ایکٹ کی جاسکے گی،کاشتکاروں کے واجبات ادا نہ کرنے پر مل مالک گرفتار اور مل کی قرقی کی جاسکے گی،ڈپٹی کمشنرز گرفتاری اور قرقی کے احکامات پر عمل درآمد کے پابند ہوں گے۔

ترمیمی آرڈیننس کے مطابق،گنے کی کرشنگ تاخیر سے شروع کرنے پر 3 سال قید اور یومیہ 50 لاکھ جرمانہ ہوگا،شوگر فیکٹریز ایکٹ کے تحت جرم ناقابل ضمانت اور قابل دست اندازی پولیس بنا دیا گیااورمقدمات کی سماعت مجسٹریٹ درجہ اول سے سیکشن 30 کے مجسٹریٹ کو منتقل کردیئے گئے ہیں،شوگر فیکٹریز ایکٹ میں ترامیم سے گنے کے کاشتکاروں کے حقوق کا تحفظ ہوگا ۔