Aaj TV News

COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 327,063 847
DEATHS 6,727 12

اسلام آباد:جوڈیشل انکوائری کمیشن نے سانحہ اے پی ایس کو سیکیورٹی کی ناکامی قرار دیتے ہوئے اسکول کی سیکیورٹی پر بھی سوالات اٹھا دیئے۔

سپریم کورٹ کے حکم پر سانحہ آرمی پبلک اسکول کمیشن رپورٹ جاری کردی گئی،رپورٹ 525 صفحات اور4حصوں پرمشتمل ہے۔

رپورٹ کمیشن کے سربرارہ جسٹس محمد ابراہیم خان نے مرتب کی ہے،ر پورٹ میں جوڈیشل انکوائری کمیشن نے سانحہ اےپی ایس کو سیکیورٹی کی ناکامی قراردے دیا اور اسکول کی سیکیورٹی پر بھی سوالات اٹھا دیئے۔

رپورٹ میں دھمکیوں کےبعد سیکیورٹی گارڈز کی کم تعداد اور درست مقامات پرعدم تعیناتی کی نشاندہی کی گئی اور کہا گیا کہ غفلت کا مظاہرہ کرنے والی یونٹ کے افسران و اہلکاروں کو سزائیں دی گئیں۔

کمیشن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہمارا ملک دہشگردی کخلا ف جنگ میں برسرپیکار رہا، اس دوران ملک میں دہشتگردی اپنے عروج پر پہنچی، اس کے باوجود ہماری حساس تنصیبات یا سافٹ ٹارگٹس پر ہونے والے حملوں کو جنگ کا جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہمارا شمال مغربی بارڈر بہت وسیع اور غیر محفوظ ہے، شمال مغربی بارڈر سے حکومت اور بین الاقوامی معاہدوں کے تحت مہاجرین کی آمد و رفت جاری رہتی ہے، ان حقائق کے باوجود انتہا پسند عناصر کو مقامی آبادی کی طرف سے مدد فراہم کیے جانا ناقابلِ معافی جرم ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب اپنا ہی خون دغا دے تو ایسے تباہ کن سانحات رونما ہوتے ہیں،ایسے عناصر کی وجہ سے ناصرف محدود وسائل میں کئے،سیکیورٹی انتظامات ناکام ہوتے ہیں بلکہ دشمن کو ناپاک عزائم پورے کرنے میں مدد ملتی ہے،اس تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کوئی ایجنسی چاہے کتنے ہی وسائل کیوں نہ رکھتی ہو ایسے واقعات روکنے میں ناکام ہو جاتی ہے جب اندر سے ہی مدد فراہم کی گئی ہو۔

کمیشن رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی کی 3 پرتیں جن میں گیٹ پر موجود گارڈز، علاقے میں پولیس گشت اور کوئیک رسپانس فورس کی 10 منٹ کے فاصلے پر موجودگی اس دھویں کی طرف متوجہ ہو گئی جو منصوبے کے تحت ایک گاڑی کو آگ لگانے کی وجہ سے اٹھا، نتیجتاً سکیورٹی کی توجہ آرمی پبلک سکول سے ہٹ گئی اور دہشتگرد اسکول میں داخل ہو گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اسکول کے پیچھے گشت پر موجود فورس جلتی ہوئی گاڑی کی جانب چلی گئی جبکہ سیکیورٹی فورسز کا دوسرا دستہ بروقت سکول کی حفاظت کو نہ پہنچ سکا، دوسرا دستہ ریپڈ رسپانس فورس اور کوئیک رسپانس فورس کے آنے تک دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام رہا اور نتیجتاً اندوہناک سانحہ رونما ہوا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حملے سے متعلق نیکٹا نے وارننگ جاری کر رکھی تھی، نیکٹا وارننگ کے مطابق دہشتگرد آرمی پبلک اسکول کو نشانہ بنا سکتے تھے۔

وارننگ کے مطابق دہشتگردوں کا مقصد فوجیوں کے بچوں کو نشانہ بنانا تھا، نیکٹا نےعسکری مراکز، حکام اوران کی فیملیز پر حملوں کاعمومی الرٹ جاری کیا۔

کمیشن رپورٹ میں کہا گیا کہ نیکٹاالرٹ کے بعد فوج نے دہشتگردوں کیخلاف کارروائیاں شروع کیں ، دہشتگرد پاک فوج کو آپریشن ضرب عضب اور خیبر ون سے روکنا چاہتے تھے، اگرچہ پاک فوج ضربِ عضب میں کامیاب رہی لیکن سانحہ اے پی ایس نے اس کامیابی کو داغدار کر دیا۔

رپورٹ میں کہا ہے کہ اس واقعہ نے ہمارے سکیورٹی نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، سیکیورٹی پر تعینات اہلکار نا صرف آنے والے حملہ اوروں کو روکنے کے ناکافی تھے بلکہ ان کی پوزیشن بھی درست نہیں تھی ،سیکیورٹی کی تمام توجہ مین گیٹ پر تھی جبکہ اسکول کا پچھلے حصے پر کوئی سیکیورٹی تعینات نہیں تھی جہاں سے دہشتگرد بغیر کسی مزاحمت کے اسکول میں داخل ہوئے، گارڈز نے مزاحمت کی ہوتی تو شاید جانی نقصان اتنا نہ ہوتا۔

کمیشن رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی پر مامور گارڈز کی صلاحیت دہشتگردوں کو روکنے کیلئے ناکافی تھی، کوئیک رسپانس فورس اور ایم وی ٹی۔2 کے اہلکاروں نے بچوں کے بلاک کی طرف بڑھتے ہوئے دہشتگردوں کی پیش رفت روکا۔

رپورٹ کے مطابق ایم وی ٹی۔1 کو غفلت برتنے پر تحقیقات کے بعد سزا دی جا چکی ہے۔