شہبازشریف کےجسمانی اور حمزہ شہباز کےجوڈیشل ریمانڈمیں8روزکی توسیع
لاہور :احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے جسمانی اور حمزہ شہباز کے جوڈیشل ریمانڈ میں 8روز کی توسیع کردی۔
لاہور کی احتساب عدالت کے ایڈمن جج جواد الحسن نے منی لانڈرنگ کیس پر سماعت کی،شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو عدالت کے روبرو پیش کیا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ نصرت شہباز، سلمان شہباز اور رابعہ عمران کی کیا رپورٹ ہے جس پر عدالت میں رپورٹ جمع کروا دی گئی۔
وزارت خارجہ کے نمائندے نے کہا کہ نصرت شہباز، سلمان شہباز اور رابعہ عمران کو نوٹس بھجوائے مگر وہاں موجود افراد نے نوٹس لینے سے انکار کر دیا۔
شہباز شریف نے عدالت کے روبرو شکایت کرتے ہوئے کہا کہ انکی کمر میں تکلیف ہے، ان کی نماز کی کرسی تبدیل کرنے سے انکار کیا گیا اور کھانا بھی باہر زمین پر رکھتے ہیں، ڈی جی نیب لاہور کو شکایت کی، یہ سب وزیراعظم عمران خان اور شہزاد اکبر کے حکم پر ہوا، ان کی کمر کو تکلیف پہنچی تو وزیراعظم اور شہزاد اکبر کیخلاف مقدمہ درج کروائیں گے۔
نیب کے وکیل نے کہا کہ انہیں ڈسپنسری میں رکھا ہوا ہے، عمران خان یا شہزاد اکبر کا نام لینا سیاسی بیان ہے، نیب ایک آزاد ادارہ ہے، وہ ان کا جرم ثابت کریں گے۔
شہباز شریف کی نیب کے روئیے کیخلاف شکایت پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور وکلا ءکو بولنے سے روک دیا ۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو سیاست میں تم سے زیادہ تجربہ ہے، یہ ہرگز درست نہیں کہ کھانا زمین پر دیا جائے، انسانیت کی تذلیل برداشت نہیں ہوگی، اس حوالے سے ایک مکمل آرڈر آج ہی پاس کریں گے۔
عدالت نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے ریمانڈ میں توسیع کرتے ہوئے کیس کی سماعت 13اکتوبر تک ملتوی کردی۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔