'کراچی چڑیا گھر میں جانوروں کی حالت تشویشناک اور قابل رحم ہے'
کراچی: چڑیا گھر کراچی میں ریچھ "رانو" سمیت دیگر جانوروں کی حالت زار، سندھ ہائیکورٹ نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کے ایم سی کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ مسترد کردی۔
سندھ ہائیکورٹ نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ کراچی چڑیا گھر میں جانوروں کی حالت تشویشناک اور قابل رحم ہے، رپورٹ میں سب اچھا لکھا ہے لیکن ایسا نہیں ہے، جانور سب کچھ بتا دیتے ہیں، لیکن انتظامیہ گونگی و بہری ہے، یہ لوگ جانوروں کو قید کرکے پیسا کمانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں، چڑیا گھر میں سیکڑوں جانوروں کی دیکھ بھال کیلئے محض ایک ویٹرنری ڈاکٹر کی تقرری پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔
عدالت کا کہنا ہے کہ ایک ڈاکٹر کیسے اتنے جانوروں کا خیال رکھتے ہوگا، ایک ویٹنری ڈاکٹر کو ہر قسم کے جانوروں کی دیکھ بھال پر مامور کردیا گیا، آۓ دن نئے جانوروں کی آمد اور ہلاکت کی خبر آتی ہے، جانوروں کیلئے مناسب اور مطلوبہ ماحول اور انفرا اسٹرکچر تک نہیں۔
عدالت نے 48 گھنٹوں میں ریچھ کیلئے ائیر کولر یا ائیر کنڈیشن لگانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو چڑیا گھر کے ڈائریکٹر یا کسی بھی آفسر کا ایئر کنڈیشنڈ اتار کر لگایا جائے، عدالت نے کراچی چڑیا گھر کا مکمل بجٹ اور ملازمین کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے سیکریٹری وائلڈ لائف کو بھی نوٹس جاری کردئیے۔
عدالت نے بیرسٹر محسن شہوانی کی تجویز پر ماہرین کی کمیٹی بھی تشکیل دے دی، کمیٹی سے دو ہفتوں میں تمام جانوروں کی صحت اور ان کے ماحول سمیت چڑیا گھر کے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
کمیٹی میں پروفیسر ڈاکٹر ظہیر، زہرہ علی، ایم ایچ ہیرزادہ اور اسما گھی والا شامل ہیں، درخواست ٹی وی آرٹسٹ مشال اور دیگر نے دائر کر رکھی ہے۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔