Aaj TV News

BR100 4,267 Increased By ▲ 36 (0.86%)
BR30 21,570 Increased By ▲ 180 (0.84%)
KSE100 41,069 Increased By ▲ 262 (0.64%)
KSE30 17,282 Increased By ▲ 122 (0.71%)

سمندر پار پاکستانیوں نے مسلسل چوتھے ماہ ستمبر میں دو ارب ڈالر سے زائد رقم ترسیل کی، مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران ترسیلات کا مجموعی حجم سات ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا۔

ستمبر میں اسٹیٹ بینک کی پیش گوئی سے بھی زیادہ ترسیلات موصول ہوئیں۔

سمندر پار پاکستانیوں نے دو ارب تیس کروڑ ڈالر وطن بھیجے جس میں گذشتہ سال ستمبر اکتیس اور اگست کے مقابلے میں نو فیصد اضافہ ہوا۔

مالی سال دوہزار اکیس کی پہلی سہ ماہی میں ترسیلات زر کا حجم سات ارب دس کروڑ ڈالر رہا۔

مشرق وسطیٰ، یورپ اور امریکا ترسیلات میں نمایاں رہے۔

دوسری جانب ملک بھر میں شہریوں پر مہنگائی کا دباؤ بڑھ گیا، عوام دہائی سے حکومت کو اب تک آیا نہیں کوئی تاؤ، آٹا۔ چینی۔ کولنگ آئل اور مصالحہ جات کے بعد سبزیاں بھی مہنگی ہوگئیں۔ حکومت اب تک مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے۔

مہنگائی آنہیں رہی، مہنگائی آگئی ہے۔ ملک میں مہنگائی 10سال کی بلند ترین سطح پر ہے۔

آٹا ۔ چینی ۔ کولنگ آئل۔ مصالحہ جات اور دالیں سب مہنگی ہوگئی۔ روٹی۔ نان کی قیمت میں بھی اضافہ ہوگیا۔

شہری پریشان۔ کہتے ہیں پاپڑ خریدنے پر مجبور ہیں۔

ٹماٹر فی کلو200روپے ادرک 500روپے، پیاز اور آلو 80روپے ،مرغی 215 کلو روپے، انڈے 170روپے درجن۔ بکرے کا گوشت 1250روپے فی کلو اور گوشت 700روپے میں فروخت ہورہا ہے۔

شہری کہتے ہیں زندہ رہنا مشکل ہوگیا ہے۔ شہری کہتے ہیں کہ قیمتیں اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ یہ منہ اور مسور کی دال کے بجائے اب یہ منہ اور سبزی کا محاورہ بھی صادق آنے لگاہے۔