Aaj TV News

COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 327,063 847
DEATHS 6,727 12

فیس بک نے پیر کے روز کہا ہے کہ وہ نفرت پر مبنی مواد کے حوالے سے اپنی پالیسی کو جدید تر بناتے ہوئے ایسے کسی بھی مواد پر پابندی عائد کرے گا جو ہولوکاسٹ کی تردید یا اس میں بگاڑ پیدا کرے گا۔

دو سال قبل 2018 میں فیس بک کے چیف ایگزیکٹو، مارک زکربرگ نے ری کوڈ نامی ٹیک ویب سائٹ سے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ ہولوکاسٹ سے انکار کو سخت ناپسندیدہ سمجھتے ہیں۔ لیکن ان کے نزدیک فیس بک سے ایسے مواد کو نہیں ہٹایا جائے گا۔ تاہم اب دو سال بعد یہ قدم اٹھا لیا گیا ہے۔

یہودی مذہب سے تعلق رکھنے والے زکربرگ نے پیر کے روز فیس بک پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ میں آزادی اظہار کا ساتھ دینے اور ہولوکاسٹ سے انکار یا اس کی ہولناکی کو کم کرنے کے درمیان کشمکش میں رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ڈیٹا دیکھا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہود مخالف تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور اس سے ان کی سوچ اور ادارے کی نفرت پر مبنی ابلاغ سے متعلق وسیع تر پالیسی میں بتدریج تبدیلی آئی ہے۔

دی ورلڈ جیوش کانگریس اور امیریکن جیوش کمیٹی نے فیس بک کے اس اقدام کو سراہا ہے۔

اپنے ایک بیان میں گروپ کا کہنا تھا کہ ورلڈ جیوش کانگریس کئی برسوں سے مطالبہ کر رہی تھی کہ ہولوکاسٹ سے انکار پر مبنی مواد کو فیس بک اپنے پلیٹ فارم سے ہٹا دے۔

اس موسم گرما میں شہری حقوق کیلئے کام کرنے والے گروپوں نے فیس بک کے اشتہارات سے متعلق بائیکاٹ کا وسیع تر اہتمام کیا تاکہ سوشل میڈیا کمپنیوں پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ نفرت پر مبنی مواد کو اپنے اپنے پلیٹ فارم سے ہٹائیں۔