Aaj TV News

BR100 4,267 Increased By ▲ 36 (0.86%)
BR30 21,570 Increased By ▲ 180 (0.84%)
KSE100 41,069 Increased By ▲ 262 (0.64%)
KSE30 17,282 Increased By ▲ 122 (0.71%)

وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں نواز شریف میری بات غور سے سن لو، آج سے میری کوشش ہے کہ تمہیں اس ملک میں واپس لایا جائے، تم واپس آؤ تمہیں دیکھتا ہوں۔

وزیر اعظم نے کنونشن سینٹر میں ٹائیگر فورس کنونشن سے خطاب کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوج ہر برے وقت میں ہمارے ساتھ کھڑی رہی ہے۔ ہمارے پاس پیسہ نہیں تھا تو دفاعی اخراجات میں کمی کی۔

وزیر اعظم نے گزشتہ روز ہونے والے اپوزیشن کے جلسے سے متعلق کہا کہ رات کو جو سرکس ہوا اس میں بڑے فنکار تھے۔

وزیر اعظم نے کہاآپکی سوئی جانے کیوں ڈیزل پر اٹک گئی۔آپکے لئے اپنا مقام اور کام سمجھنا ضروری ہے۔وولنٹیئر فورس کا معاشرے میں بڑا کام ہوتا ہے۔پیسے جمع کر کے شوکت خانم اسپتال بنانے کی کوئی مثال نہیں۔ہمیں ٹائیگر فورس کی تو ضرورت پڑتی رہے گی۔

انہوں نے کہا غلط وقت میں بارش ہونے پر گندم کم پڑ گئی۔3 سال میں ہم نے 10 ارب درخت اگانے ہیں۔ہم نے پانی اوردریاؤں کو صاف کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امپورٹ، ایکسپورٹ میں ہمیں شدید خسارہ تھا۔ہمیں 40 ارب ڈالرز کا خسارہ تھا۔خسارہ بڑھے تو ڈالر اوپر چلا جاتا ہے۔جب ڈالر بڑھتا ہے تو باہر سے خریدنے والی چیزیں مہنگی ہوجاتی ہیں۔گھی مہنگا ہوگیا، پام آئل مہنگا ہوگیا۔کووڈ کی وجہ سے چیزیں مہنگی ہوگئیں۔

وزیر اعظم نے کہاجتنا خسارہ تھا، ہم نے ساری گندم امپورٹ کرلی ہے۔گندم منگوانے سے پہلے ذخیرہ اندوزی شروع ہوگئی۔قائد اعظم نے بھی کہا کہ ذخیرہ اندوزی ایک بڑی لعنت ہے۔اسکے لئے مجھے آپکی ضرورت ہے۔آپ نے کہیں خود جاکر مداخلت نہیں کرنی۔آپ اپنے موبائل سے تصویر لیکر پورٹل پر ڈال دیں۔اسکے بعد انتظامیہ کا کام ہے ایکشن لینا۔جن دکانوں میں قیمتوں کی لسٹیں نہ لگی ہوں انکی تصاویر بھی لیں۔اگر آپ مداخلت کریں گے تو ٹائیگر بن کر پیسہ بنانے والے لوگ آجائیں گے۔

شوگر مافیہ کے متعلق بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا چینی بنانے والے تھوڑے سے لیکن طاقتور لوگ ہیں۔ شریفوں اور زرداریوں کی بھی شوگر ملز ہیں۔جن قیمتوں کا یہ فیصلہ کرتے وہ مارکیٹ میں آجاتیں ہیں۔ہمیں اب تمام چیزیں پتہ چل گئی ہیں۔جو پلان لیکر آرہے ہیں، آگے مہنگی چینی نہیں ملے گی۔

انہوں نے کہا 11 سال پہلے میں نے سب پیشگوئی کی تھی۔چوروں کی چوری پر ہاتھ پڑے گا تو جو نورا کشتی کھیل رہے ہیں اکھٹے ہوجائیں۔دو بچوں نے جو تقاریر کیں ان پر بات نہیں کرنا چاہتا، ایک ان میں سے نانی ہوگئی لیکن میرے لئے بچی ہی ہے۔ان بچوں نے آج تک زندگی میں ایک گھنٹہ حلال کا کام نہیں کیا۔یہ دونوں اپنے باپوں کی حرام کی کمائی پر پلے ہیں۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ 11کی ٹیم ہوتی ہے، 12ویں کو ٹویلو مین کہتے ہیں۔بارہویں کھلاڑی پر میں کیا بات کروں۔لندن میں بیٹھ کر جس نے گفتگو کی اس پر بات کرنا چاہتا ہوں۔میں اسے اچھی طرح نہ جانتا تو میری آنکھوں میں بھی آنسو آجاتے۔

عمران خان نے نوازشریف کی تصاویر بھی اسکرین دکھوائیں اورشہبازشریف کا ویڈیو کلپ بھی چلوایا۔

ان کاکہنا تھا کہ خواتین آپ نے رونا نہیں ہے۔ہالی ووڈ میں بھی کوئی ایسی ایکٹنگ نہیں کرسکتا جیسی انہوں نے کی۔ ہماری کابینہ میں یہ ایکٹنگ ہوئی تو شیری مزاری رونا شروع ہوگئی۔

انہوں نےکہاجواس نےآرمی چیف اورآئی ایس آئی کے ڈی جی کیخلاف زبان استعمال کی۔میں آج اس پر خاص بات کرنا چاہتا ہوں۔ہمارے فوجیوں پرمسلسل حملے ہورہے ہیں۔پرسوں پاکستان کے 20 سیکیورٹی فورسز نے شہادت پائی۔اور یہ ہمارے لئے اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا یہ گیدڑ جو دم دبا کر باہر بھاگا تھا۔وہاں بیٹھ کرآرمی چیف کیخلاف زبان استعمال کی۔یہ نوازشریف جنرل جیلانی کے گھر پر سریا بناتے ہوئے وزیربنا۔یہ ضیاء کے جوتے پالش کرتے کرتے وزیراعلی بنا۔اس نے آصف زرداری کو 2 بار جیل میں رکھا تھا۔آصف زرداری کو پاکستان کا کرپٹ ترین آدمی کہتا تھا۔

وزیر اعظم نے مزید کہا اربوں کا کیس اس پر جنرل باجوہ نے نہیں بنایا تھا۔یہ اپنا چوری کیا ہوا پیسہ بچانے کےلئے ملک بیچ سکتے ہیں۔انکا تو پیسہ خدا ہے۔انہوں نے میر جعفر اور میر صادق والا کام کیا ہے۔یہ جنرل باجوہ نہیں پاکستانی فوج پر حملہ ہے۔یہی بات تو نریندر مودی کررہا تھا۔نریندرمودی نے بار بار کہا کہ پاکستان کا آرمی چیف دہشتگرد ہے۔نریندر مودی نے کہا کہ اسے نوازشریف پسند ہے۔اسے پتہ ہے کہ میں نے مودی کی شکل دنیا میں دکھائی۔نوازشریف کی ہندوستان کے اخباروں میں تعریفیں ہورہی ہیں۔

انہوں نے کہا کیا ہندوستان کو نہیں پتہ تھا جب جنرل ضیاء نے اسے گود میں بٹھاکر اسکے منہ میں دودھ کی چسنی لگائی۔یہ وہ نوازشریف ہے جس نےجوڈیشری کو بریف کیس دیکر خریدا۔قمر زمان جیسے کرپٹ آدمی سے اپنے کیس ختم کرائے۔عدلیہ جب تک ٹھیک ہے جب تک اسکے ساتھ کھڑی ہے۔

انہوں نے کہا کیا پاناما کا کیس جنرل باجوہ نے کیا تھا؟آج لوگوں کے سامنے بے شرمی سے جھوٹ بولتے ہیں۔وہ، اسکا بھائی، بیٹے اور بیٹی بھی جھوٹ بولتی ہے۔

الیکشن میں دھاندلی کےمتعلق بات کرتے ہوئے وزیر اعطم نے کہا ہم نے کہا کہ ہم الیکشن کھولنے کیلئے تیار ہیں۔دھاندلی کے حوالے سے ابھی انکشاف ہوا ہے۔ضمنی انتخاب میں انہوں نے ڈھائی سو کروڑ روپے خرچ کئے۔

انہوں نے کہا سیالکوٹ کا بڑا رنگ باز ہے، بڑی بڑی بڑکیں لگاتا ہے۔الیکشن کی رات کو رنگ باز خواجہ جنرل صاحب کو فون کیا۔آنسوں گررہے ہیں،جنرل صاحب میری مدد کریں، میں عثمان ڈار سے الیکشن ہاررہا ہوں۔

عمران خان نےکہایہ جو اب عمران خان دیکھیں گے،وہ مختلف ہوگا۔اب کسی ڈاکو کےلئے پروڈکشن آرڈر نہیں نکلیں گے۔عدلیہ اور نیب کو پیغام دیناچاہتا ہوں۔لوگ تنگ آگئے ہیں،انصاف کا انتظار کررہے ہیں۔لوگ چاہتے ہیں کہ ان چوروں سے پیسہ نکل کرعوام کے پاس آئیں۔جو حکومت سے آپکو سپورٹ چاہیئے ہم دینے کےلئے تیار ہیں۔جس طرح کی مدد چاہئے ہم آپکو دینے کےلئے تیار ہیں۔لیکن خدا کے واسطے روزانہ سماعتیں کر کے یہ کیسز ختم کریں۔

وزیراعظم نے کہا نیا پاکستان کے ساتھ نیا عمران خان بھی بن رہا ہے۔اب انکو کوئی وی آئی پی جیل نہیں ملے گی، انہیں عام قیدیوں کی طرح رکھیں گے۔میرا پیغام اس سرکس کو ہے۔کبھی کسی کو جیلانی نے بنادیا، کبھی کوئی کاغذ کا ٹکڑا لیکر آگیا۔لیکن میں نے دنیا کی بہترین ٹیموں سے مقابلہ کیا۔22 سال پبلک موومنٹ سے پارٹی بنائی ہے، کسی کا سہارا نہیں چاہیئے۔اب میں آپکو مقابلہ کرکے دکھاؤں گا۔تمام حکومتی اداروں کو خود تیار کروں گا۔جو ملک کو لوٹ کر باہر پیسہ لیکر گئے ہیں، ایک ایک کو پکڑیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کوشش کررہا ہے کہ عدالتوں میں انتشار پھیلائے۔یہ کوشش کررہا ہے کہ فوج میں انتشار پھیلائے۔ یہ کوشش کررہا ہے کہ اینٹی پاکستان فورسز میں یہ نمایا ہوجائے۔یہ بھارت اور اسرائیل کی لابی سے اپیل کررہا ہے۔یہ جو گیم کھیل رہا ہے میں سمجھتا ہوں۔مجھے انٹیلیجنس ہے جو یہ گیم کھیل رہا ہے۔مجھے تو فرق ہی نہیں پڑتا کہ کون آرمی چیف ہو اور کون ڈی جی آئی ایس آئی۔جنرل باجوہ نے جس طرح حکومت کی مشکل وقت میں مدد کی۔جس طرح ہمارے ساتھ ابھی کراچی میں مدد کی۔ہمارے ساتھ کورونا میں مدد کی۔خارجہ پالیسی میں پاکستانی فوج اور جنرل باجوہ کھڑے رہے ہیں۔