متحدہ عرب امارات میں پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان ہوگیا
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے جون 2026 کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے، نئی قیمتوں کے تحت مختلف اقسام کے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جب کہ ڈیزل نسبتاً سستا کر دیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے گلف نیوز کے مطابق اتوار کو یو اے ای کی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی تازہ قیمتوں کا اعلان کیا ہے، جس کا اطلاق یکم جون سے ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں خام کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی پڑے ہیں، جس کے نتیجے میں یو اے ای میں ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے ماہ بھی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔
نئی قیمتوں کے تحت جون کے مہینے میں سپر 98 پیٹرول 3.95 درہم فی لیٹر میں دستیاب ہوگا جب کہ مئی میں اس کی قیمت 3.66 درہم فی لیٹر تھی۔ اسی طرح سپیشل 95 پیٹرول کی قیمت 3.55 درہم سے بڑھا کر 3.83 درہم فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
ای پلس 91 پیٹرول کے نرخ بھی بڑھا دیے گئے ہیں اور اب یہ 3.76 درہم فی لیٹر میں فروخت ہوگا جب کہ گزشتہ ماہ اس کی قیمت 3.48 درہم فی لیٹر تھی۔
دوسری جانب ڈیزل استعمال کرنے والوں کے لیے قدرے ریلیف دیا گیا ہے، جون میں ڈیزل کی قیمت 4.69 درہم کے بجائے 4.33 درہم فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مئی کے دوران برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت تقریباً 103 ڈالر فی بیرل رہی، جو اپریل کی اوسط 99 ڈالر فی بیرل سے زیادہ تھی۔ اسی وجہ سے جون کے لیے ایندھن کی قیمتوں پر اضافے کا دباؤ برقرار رہا۔ تاہم حالیہ دنوں میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی بھی دیکھی گئی ہے۔
گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آکر تقریباً 91 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جس کی ایک وجہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی اطلاعات بتائی جا رہی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی تیل مارکیٹ پر آبنائے ہرمز کی صورت حال بدستور اثرانداز ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور ایندھن کی ترسیل گزرتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں خطے میں کشیدگی اور بحری نقل و حمل میں رکاوٹوں کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گ
یا۔
ماہرین کے مطابق آئندہ مہینوں میں ایندھن کی قیمتوں کا انحصار برینٹ خام تیل کی قیمت، امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی پیش رفت اور آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کی بحالی پر ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے مستحکم رہتی ہیں اور ترسیلی راستوں میں بہتری آتی ہے تو موسمِ گرما کے دوران صارفین کو قیمتوں میں کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔













