Aaj.tv Logo

کراچی:سپریم کورٹ نے کمشنرکراچی کو کڈنی ہل پارک پرقائم غیر قانونی تعمیرات 2ہفتے میں ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے2ہفتے میں عمل درآمد رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے کمشنرکراچی کوکہااس طرح کا رویہ ہوگا توآپ کو توہین عدالت کا نوٹس دیں گے ۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں کڈنی ہل پارک پر تجاوزات کیس کی سماعت ہوئی،اس سلسلے میں کمشنرکراچی سمیت دیگرعدالت میں پیش ہوئے۔

کمشنرکراچی نے عدالت کوبتایا کڈنی ہل پارک کی زمین پر34گھروں میں لوگ مقیم ہیں ، ہمارے ریکارڈ کے مطابق ساری زمینیں کلیئر ہے کل جن گھروں کی نشاندہی ہوئی ہے وہ الگ ہیں، فرحان اور اوورسیزسوسائٹی کے چوبیس گھر ہیں جن کو منہدم کرنا تھا،یہ گھر چھ اعشاریہ ایک ایکڑ اراضی پرقائم ہیں ، پارک کی مجموعی زمین 62ایکٹر ہے جس میں چھ اعشاریہ تین ایکڑپرقبضہ ہے ۔

عدالت نے ریمارکس دیئے آپ نے بیان دیا تھا ساری تجاوزات ختم کردیں گے اس کا کیا ہوا ؟ ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر اس طرح کا رویہ ہوگا توآپ کوتوہین عدالت کا نوٹس دے دیں گے۔

عدالت نے کڈنی ہل کی زمین پرقائم فاران سوسائٹی کے مکانات کومنہدم کرنے سے قبل مکینوں کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے فاران سوسائٹی کے صدر،سیکریٹری ،اوورسیزسوسائٹی سے متصل4مکانات کے مالکان کو بھی نوٹس جاری کئے ۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نےمکینوں کا ایڈوانس انہدام نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کردی۔

سپریم کورٹ نےکمشنرکراچی کوکڈنی ہل پارک پرقائم غیر قانونی تعمیرات 2ہفتے میں ختم کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نےکمشنرکراچی کو2ہفتے میں عمل درآمد رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ کا سندھ بھر میں سرکاری اراضی واگزار کرانے کا حکم

کراچی :سپریم کورٹ نے سندھ میں زمینوں کے ریکارڈ میں جعلسازی کیس میں تمام سرکاری اراضی پر قبضوں کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے صوبے بھر میں سرکاری اراضی واگزار کرانے کا حکم دےدیا۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں سندھ میں زمینوں کے ریکارڈ میں جعلسازی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ۔

عدالت نےتمام سرکاری اراضی پرقبضوں کاریکارڈطلب کرتےہوئےصوبےبھرمیں سرکاری اراضی واگزارکرانےکا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ کتنےپارکس اورسرکاری اراضی واگزارکرائی گئی؟۔عدالت نے محکمہ آب پاشی اورجنگلات کی زمینیں واگزار کرانے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ نے ڈپٹی کمشنرزکوزمینوں پرقبضےکیخلاف کارروائی اورایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

ممبربورڈ آرریونیو نے عدالت کو بتایا کہ 7کروڑ فائلوں کاکمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کرچکے ہیں ،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ متوازی فائلیں چل رہی ہیں روز جعلسازی سامنے آتی ہے ، مختیار کار اپنے دفتر اور گھر میں ریکارڈ بناتے ہیں ، ٹھٹہ میں توہر ایک نے وہاں مرضی سے ریکارڑ بنایا ہے۔

سینئرممبربورڈ آف ریونیو نے کہا کہ 1985تک ریکارڈ آن لائن دیکھا جاسکتا ہے،جس پرجسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپ سپرہائی وے پرچلے جائیں آپ کو قبضہ نظر آجائےگا،سرکاری زمینوں پرغیر قانونی تعمیرات بھری پڑی ہیں ،یونیورسٹی روڈ بھرا پڑا ہے غیر قانونی تعمیرات سے ، ملیرمیں غیر قانونی دیواریں کھڑی ہوئی ہیں، کتنے عرصہ سے ہیں آپ سینئر ممبر ؟کچھ کرکےدکھائیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بتائیں کتنی سرکاری زمینیں واگزار کرائی ہیں،آپ کو حکم کی ضرورت نہیں یہ آپ کی ذمہ داری ہے،جس پر سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے بتایا کہ ملیر میں ایک ہزار ایکڑ اراضی واگزار کرائی گئی ہے۔

سپریم کورٹ کا کراچی پورٹ ٹرسٹ کو فوری مینگرووز کے درخت لگانے کا حکم

کراچی :سپریم کورٹ نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کی زمین الاٹمنٹ کیس میں کے پی ٹی کو فوری مینگرووز کے درخت لگانے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ رجسٹری میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کی زمین کی الاٹمنٹ کیس کی سماعت ہوئی،کے پی ٹی ے وکیل نے عدالت کوبتایا نیا بورڈ بن گیا ہے عدالتی حکم پرعمل درآمد ہورہا ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا آپ مینگروز کی پلانٹیشن کب شروع کریں گے ؟باتھ آئی لینڈ اوردوسری طرف بھی مینگروز لگائیں،سڑک کے دونوں اطراف بیوٹیفیکیشن کا کام ہونا چاہیئے،ساحلی پٹی سے تجاوزات ختم کرکے اسے خوبصورت بنائیں۔ وکیل کے پی ٹی نے بتایاجلد کام شروع کردیں گے منصوبہ تیار کرلیا ہے،کے پی ٹی میں نئے چیئرمین آئے ہیں کچھ وقت مل جائے توکام کرلیں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کام توہوسکتا ہے جتنی تیزی سے راتوں رات تعمیرات کی گئی تھیں اور سوسائٹی کے پلاٹس فروخت کرتے رہے اسی تیزی سے پلانٹیشن بھی کریں۔

سپریم کورٹ نے عمل درآمد کیلئے کے پی ٹی کومزیددوہفتے کی مہلت دے دی ۔

الاٹیزکے وکیل نے عدالت سے استدعا کی الاٹیز کی لیز کینسل ہوگئی ہے مناسب معاوضہ کے حق سے محروم نہ کیا جائے جس پرعدالت نے ہدایت کی متاثرین متعلقہ فورم سے رجوع کرسکتے ہیں۔