Aaj TV News

BR100 4,836 Decreased By ▼ -20 (-0.41%)
BR30 24,445 Decreased By ▼ -62 (-0.25%)
KSE100 45,727 Decreased By ▼ -204 (-0.44%)
KSE30 19,020 Decreased By ▼ -90 (-0.47%)

نئی پرائیویسی پالیسی پر شدید تنقید کے بعد واتس ایپ کے سربراہ ول کیتھ کارٹ نے وضاحت پیش کردی ہے۔

ول کیتھ کارٹ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر شئیر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ واٹس ایپ کی نئی پالیسی سے صارفین متاثر نہیں ہوں گے، نہ ہی ان کا ڈیٹا کسی کو فراہم کیا جائیگا۔

انہوں نے کہا کہ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے باعث واٹس ایپ اور فیس بک نجی پیغامات یا کالز کو نہیں دیکھ سکتے، جبکہ وہ ٹیکنالوجی کی فراہمی اور عالمی سطح پر اس کے دفاع کے لیے پر عزم ہیں۔

ول کیتھ کا مزید کہنا تھا کہ کہ انہوں نے اپنی پالیسی کو شفافیت کے لیے اپ ڈیٹ کیا ہے اور اس میں پیپ ٹو بزنس آپشنل فیچرز کی بہتر وضاحت کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس پالیسی کا اکتوبر میں تحریر کردیا تھا۔ جس میں واٹس ایپ میں موجود کامرس کو بھی شامل کیا تھا۔

واٹس ایپ کے سربراہ نے ٹویٹر پیغام میں تحریر کیا کہ ہر ایک کو شاید علم نہیں کہ متعدد ممالک میں کاروباری اداروں کے واٹس ایپ پیغامات کتنے عام ہیں، درحقیقت روزانہ سترہ کروڑ سے زیادہ افراد کسی ایک بزنس اکاؤنٹ سے میسج کرتے ہیں اور متعدد ایسا کرنا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ واٹس ایپ نے اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتے ہوئے صارفین کو آٹھ فروری تک نئی اپ ڈیٹس بھیجنا شروع کی ہیں، جو آٹھ فروری تک اس قبول نہیں کرے گا اس کا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کردیا جائیگا۔