Aaj.tv Logo

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو این اے 249 الیکشن سے قبل بڑا دھچکا لگ گیا، ضمنی الیکشن کے لیے امجد آفریدی کو ٹکٹ دینے پر رکن صوبائی اسمبلی ملک شہزاد اعوان نے احتجاجاً استعفا دیدیا۔

این اے 249 کے ضمنی انتخابات کے لئے تحریک انصاف کی جانب سے امجد آفریدی کو ٹکٹ جاری کردیا گیا ہے، تاہم امجد آفریدی کو ٹکٹ دینے پر پی ٹی آئی قیادت میں سخت اختلافات سامنے آگئے ہیں۔ پی ایس 116 سے تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی ملک شہزاد اعوان نے امجد آفریدی کو پارٹی ٹکٹ دینے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے استعفا سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کو بھجوا دیا۔

انہوں نے کہا کہ جو شخص یوسی اور صوبائی اسمبلی کا الیکشن ہار چکا ہے اس کو کس بنیاد پر ٹکٹ دیا گیا۔ ہمارا امیدوار بہت کمزور ہے، پورے ملک کی نظریں اس وقت این اے 249 پر ہیں، بلدیہ ٹاؤن میرا گھر ہے، اپنےگھر سے ہی پارٹی کا جنازہ نکلتے نہیں دیکھ سکتا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ سیٹ ہر حال میں جیت کر وزیراعظم کو تحفے میں دینی ہے، مسلط امیدوار کی تاریخ دیکھیں تو لیڈر شپ کو سمجھ آجائے گی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز خبریں سامنے آئی تھیں کہ این اے 249ضمنی انتخاب الیکشن کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف اور تحریک لبیک پاکستان میں سیاسی اتحاد کا امکان ہے۔ پی ٹی آئی کراچی قیادت اور ٹی ایل پی قیادت کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔

این اے 249 الیکشن کے حوالے سے دونوں جماعتوں نے مشترکہ امیدوار لانے پر غور کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ این اے 249 فیصل واوڈا کے مستعفی ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی۔ 2018ء کے الیکشن میں انہوں نے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف کو شکست سے دو چار کیا تھا۔ فاتح امیدوار نے 35 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ ہارنے والے امیدوار کے حصے میں 34 ہزار سے زائد ووٹ آئے تھے۔ جبکہ تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار مفتی عابد مبارک نے 23 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے تھے۔