Aaj TV News

BR100 4,820 Decreased By ▼ -32 (-0.66%)
BR30 25,669 Decreased By ▼ -3 (-0.01%)
KSE100 44,978 Decreased By ▼ -208 (-0.46%)
KSE30 18,443 Decreased By ▼ -42 (-0.23%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 725,602 4584
DEATHS 15,501 58
Sindh 269,126 Cases
Punjab 250,459 Cases
Balochistan 20,321 Cases
Islamabad 66,380 Cases
KP 99,595 Cases

پاکستان کرکٹ ٹیم نے 29 برس قبل میلبرن کے مقام پر کرکٹ کا سب سے بڑا معرکہ ورلڈ کپ جیتا تھا۔ 1992 میں عمران خان کی قیادت میں گرین شرٹس نے وہ کچھ کر دکھایا تھا جس کی توقع کم ہی کی جا رہی تھی۔

ایونٹ کے فائنل میں ان فارم انگلش کرکٹ ٹیم کی شکست نہ صرف پاکستان ٹیم کی سب سے بڑی فتح ثابت ہوئی بلکہ فاتح ٹیم میں شامل کھلاڑیوں کے مستقبل کے لیے بھی کارآمد ثابت ہوئی۔

گو کہ عمران خان نے ورلڈ کپ کی جیت کے بعد ریٹائرمنٹ لے لی تھی لیکن ایونٹ میں شامل کھلاڑی کئی برس تک ٹیم کے لیے اہم ذمہ داریوں کے ساتھ کھیلتے رہے۔

ہم یہاں ان کھلاڑیوں کا ذکر کریں گے جو 1992 کے ورلڈ کپ کی فائنل الیون کا حصہ تھے، اس تاریخی کامیابی کے بعد ان کے کریئر پر کیا اثر پڑا اور وہ ان دنوں کیا کر رہے ہیں؟

عمران خان (کپتان)

عمران خان میگا ایونٹ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان تو تھے لیکن وہ مکمل طور پر فٹ نہیں تھے۔ اسی لیے انہوں نے ورلڈکپ 1992 کے 10 میں سے صرف آٹھ میچز کھیلے۔ باقی دونوں میچز میں ان کی جگہ جاوید میانداد نے کپتانی کی۔

لیکن ایک بیٹسمین کے طور پر ان کی کارکردگی بہت بہتر رہی۔ انہوں نے نہ صرف 39 سال کی عمر میں میلبرن جیسے بڑے کرکٹ گراؤنڈ میں فائنل کا واحد چھکا مارا بلکہ میگا ایونٹ میں مجموعی طور پر 31 رنز کی اوسط سے 185 رنز بھی اسکور کیے۔ جس میں چار چھکے بھی شامل تھے۔

بحیثیت بالر بھی انہوں نے سات وکٹیں حاصل کیں جس میں رچرڈ النگورتھ کی بھی وکٹ شامل تھی جس کے بعد پاکستان ٹیم ورلڈ چیمپیٔن بن گئی تھی۔

کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد عمران خان نے پاکستان کا پہلا کینسر اسپتال بنایا اور بعد میں سیاست میں طبع آزمائی کی۔ آج وہ ایک سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کے ساتھ ساتھ پاکستان کے وزیرِ اعظم بھی ہیں۔

جاوید میانداد (نائب کپتان)

ویسے تو عمران خان کی طرح جاوید میانداد بھی ورلڈ کپ سے قبل فٹ نہیں تھے لیکن پھر بھی انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ دس میں سے نو میچز کھیلے جس میں سے پانچ اننگز میں انہوں نے نصف سینچریاں بنائیں۔

زمبابوے کے خلاف میچ میں 89 رنز کی اننگز ہو یا نیوزی لینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں ناقابل شکست اننگز۔ جاوید میانداد پورے ایونٹ میں بھرپور فارم میں نظر آئے۔ فائنل میں ان کی بیٹنگ اور عمران خان کے ساتھ پارٹنر شپ نے پاکستان کی پوزیشن مستحکم کی اور ٹیم کو ورلڈ کپ جتوانے میں اہم کردار ادا کیا۔

جاوید میانداد کیوی کپتان مارٹن کرو کے بعد ایونٹ کے ٹاپ اسکورر میں دوسرے نمبر پر تھے۔ انہوں نے 62.42 کی اوسط سے میگا ایونٹ میں 437 رنز بنائے تھے۔

انہوں نے ورلڈ کپ کے بعد پاکستان کی کپتانی جاری رکھی اور ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے ساتھ متعدد بار بحیثیت کوچ منسلک رہے۔

سلیم ملک

ورلڈ کپ 1992 میں جاوید میانداد کے بعد سب سے سینئیر بیٹسمین سلیم ملک تھے۔ لیکن پورے ورلڈ کپ میں ان کی کارکردگی معمولی رہی۔ 20 رنز کی اوسط سے 116 رنز بنانے والے سلیم ملک کا یادگار ترین لمحہ فائنل میں باؤنڈری لائن سے وہ تھرو تھی جس کی وجہ سے انگلش ٹیم کی کمر ٹوٹ گئی۔

سلیم ملک نے نوے کی دہائی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی قیادت کی اور متعدد میچز میں کامیابی بھی دلوائی۔ ٹیسٹ کرکٹ میں 100 میچز کھیلنے والے پاکستانی بلے بازوں میں بھی ان کا شمار ہوتا ہے۔

اس وقت وہ کرکٹ سے دور لاہور میں ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں۔

اعجاز احمد

نوے کی دہائی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے مستقل رکن رہنے والے اعجاز احمد کو میگا ایونٹ میں ایک آل راؤنڈر کی حیثیت سے استعمال کیا گیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ نہ ہی وہ بیٹنگ میں کوئی بڑا کارنامہ سرانجام دے سکے اور نہ بالنگ میں۔ البتہ ان کی فیلڈنگ کی وجہ سے ٹیم کئی مرتبہ رنز روکنے میں کامیاب ہوئی۔

ریٹائرمنٹ کے بعد اعجاز احمد نے کرکٹ کوچنگ کی طرف جانے کو ترجیح دی اور ان دنوں پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے کوچ کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

اعجاز احمد پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز لاہور قلندرز کے ساتھ بھی بطور بیٹنگ کوچ منسلک ہیں۔

رمیز راجا

دنیا کے نامور کرکٹ کمنٹیٹر میں شمار کیے جانے والے رمیز راجا کا شمار پاکستان کی ون ڈے کرکٹ کے بہترین اوپننگ بلے بازوں میں ہوتا تھا۔ ساتھی اوپنر سعید انور سے قبل ون ڈے انٹرنیشنل میں پاکستان کے لیے سب سے زیادہ سنچریوں کا ریکارڈ بھی ان ہی کے پاس تھا۔

ورلڈ کپ 1992 کے دوران وہ کریئر کی بہترین فارم میں تھے۔ انہوں نے ایونٹ میں دو سینچریاں اسکور کیں اور 58 رنز فی اننگز کی اوسط سے 349 رنز بنائے۔ ایونٹ کا سب سے بڑا اسکور 119 ناٹ آؤٹ بھی انہی کے نام رہا۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کی قیادت ہو یا پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کا عہدہ۔ انہوں نے ہر دور میں کرکٹ کی خدمت کی۔ ان دنوں وہ کمنٹری کے ذریعے پاکستان کی دنیا بھی میں نمائندگی کر رہے ہیں۔

عامر سہیل

سعید انور کی عدم دستیابی کی وجہ سے پاکستان کرکٹ ٹیم نے نئے اوپنر عامر سہیل کو کھلانے کا فیصلہ کیا، ورلڈ کپ سے قبل انہوں نے صرف پانچ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی، اور انکا سب سے زیادہ اسکور شارجہ کے مقام پر 91 رنز تھا، جو انہوں نے بھارت کے خلاف اسکور کئے تھے۔

ورلڈ کپ میں انکی کارکردگی نے نہ صرف پاکستان کو ورلڈ چیمپین بنانے میں اہم کردار ادا کیا، بلکہ انکا شمار دنیا کے مستند آل راؤنڈرز میں ہونے لگا، زمبابوے کے خلاف 114 رنز کی اننگز ہو یا آسٹریلیا کے خلاف اہم میچ میں 76 رنز، عامر سہیل نے ایونٹ میں 32.6 کی اوسط سے 326 رنز اسکور کئے جس میں ایک سنچری اور دو نصف سنچریاں شامل تھیں، انکی چار وکٹوں کی بدولت پاکستان کو ایونٹ میں اچھے لیفٹ آرم اسپنر کی کمی محسوس نہیں ہوئی۔

اپنے کیرئیر میں عامر سہیل نے نہ صرف پاکستان کی کپتانی کی، بلکہ کچھ عرصہ رمیز راجا کی طرح کرکٹ بورڈ سے بھی منسلک رہے، دو مرتبہ انہوں نے چیف سلیکٹر کی بھی ذمہ داریاں سنبھالیں جبکہ آج کل وہ کرکٹ کمنٹری اور تجزیوں کی وجہ سے خبروں میں رہتے ہیں۔

انضمام الحق

ورلڈ کپ 1992 سے قبل ہی انضمام الحق نے اپنی جارحانہ بیٹنگ سے اپنا لوہا منوالیا تھا۔ سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز میں دو لگاتار سینچریوں کی بدولت ان کا موازنہ برائن لارا اور سچن ٹنڈولکر سے کیا جانے لگا تھا۔ لیکن ایونٹ میں مسلسل ناکامی کی وجہ سے ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہیں ڈراپ کیے جانے کے بارے میں سوچا جانے لگا۔

لیکن پھر ورلڈ کپ کا سیمی فائنل اور فائنل آیا۔ انضمام الحق نے اپنی کلاس دکھا کر بالرز کو کہیں کا نہ چھوڑا۔ صرف 37 گیندوں پر 60 رنز کی اننگز کھیل کر انہوں نے پاکستان کو فائنل میں پہنچایا۔ جہاں ان کے 35 گیندوں پر 42 رنز کی بدولت پاکستان نے انگلش کرکٹ ٹیم کو 250 رنز کا ہدف دیا۔

مجموعی طور پر انہوں نے ایونٹ میں 22.5 کی اوسط سے 225 رنز اسکور کیے لیکن ان کا اسٹرائیک ریٹ 94 رہا جو آج کے لحاظ سے بھی بہترین ہے۔

انضمام الحق نے اپنا ٹیسٹ ڈیبیو ورلڈ کپ کے بعد کیا اور 2007 تک پاکستان ٹیم کا حصہ رہے۔ اپنے کریئر کے آخری چار سال انہوں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی قیادت کی۔

ریٹائرمنٹ کے بعد وہ پاکستان کرکٹ ٹیم سے بحیثیت کوچ اور چیف سلیکٹر بھی وابستہ رہے۔

افغانستان کی کرکٹ ٹیم کو ون ڈے اور ٹیسٹ اسٹیٹس دلانے میں ان کا اہم کردار رہا ہے۔ آج کل وہ اپنے تجزیوں کی وجہ سے نوجوان کرکٹرز میں بے حد مقبول ہیں۔

معین خان

عمران خان نے ورلڈ کپ کے لیے منجھے ہوئے وکٹ کیپر سلیم یوسف کی جگہ جب نوجوان معین خان کو منتخب کیا تو کرکٹ حلقوں نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔ لیکن جب معین خان نے سیمی فائنل کے آخری لمحات میں میچ وننگ چھکا مار کر پاکستان کو فائنل میں پہنچایا تو ہر کوئی ان کے گن گاتا نظر آیا۔

انہوں نے ایونٹ کے 10 میچز میں 11 کیچز پکڑے اور تین کھلاڑیوں کو اسٹمپ آؤٹ کیا۔ وکٹ کے پیچھے سے ان کی جارحانہ کیپنگ کی وجہ سے کئی بلے باز وکٹ کے آگے پریشان رہتے تھے۔

معین خان نے پاکستان ٹیم کی قیادت بھی کی اور 1999 کے ورلڈ کپ میں اپنی جارحانہ بیٹنگ سے سب کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کیا۔

انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ قومی ٹیم کے مینیجر اور چیف سلیکٹر بھی رہے۔ آج کل وہ پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز کراچی کنگز سے بطور ہیڈ کوچ منسلک ہیں۔

وسیم اکرم

ورلڈ کپ 1992 کو اگر وسیم اکرم کا ورلڈ کپ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ انہی کی شاندار بالنگ کا نتیجہ تھا کہ پاکستان ٹیم پہلے راؤنڈ رابن لیگ کی ٹاپ چار ٹیموں میں سے ایک بنی۔

اگر وسیم اکرم ورلڈ کپ میں 18 وکٹیں نہ حاصل کرتے تو شاید پاکستان کا سفر پہلے ہی راؤنڈ میں تمام ہو جاتا۔ وقار یونس کی غیر موجودگی، عمران خان کی کندھے کی انجری اور دوسرے اینڈ پر ناتجربہ کار بالرز کی موجودگی میں وہ کپتان اور شائقین کے بھروسے پر پورا اترے۔

وسیم اکرم ایونٹ کے سب سے کامیاب بالر ثابت ہوئے۔ فائنل میں ان کی جارحانہ بیٹنگ نے بالرز کو ایک اچھا ہدف دیا جس کا وہ دفاع کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

وسیم اکرم نے کئی سال پاکستان کی کپتانی بھی کی اور کئی ایونٹس میں کامیابی بھی دلائی ۔ 2003 کے ورلڈ کپ کے بعد انہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ کو خیرباد کہہ کر مائیکروفون کے پیچھے جانے کا فیصلہ کیا اور اس وقت کمنٹری سے وابستہ ہیں۔

پاکستان سپر لیگ کے آنے کے بعد وہ اسلام آباد یونائیٹڈ، ملتان سلطانز اور اب کراچی کنگز کے ساتھ منسلک ہیں۔ سابق ہیڈ کوچ ڈین جونز کی 2020 میں اچانک موت کے بعد وسیم اکرم نے ناک آؤٹ راؤنڈ میں کراچی کنگز کی کوچنگ کی اور ان کی ٹیم ایونٹ کا فائنل جیتنے میں کامیاب ہوئی۔

عاقب جاوید

نوے کی دہائی میں جہاں وسیم اکرم اور وقار یونس کا ذکر ہوتا ہے۔ وہیں ان کے تیسرے ساتھی عاقب جاوید کا بھی تذکرہ ہوتا ہے، جب جب ان دونوں بالرز میں سے کوئی انجری کا شکار ہوتا تھا تو عاقب جاوید کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی تھیں۔

ایسا ہی کچھ ہوا تھا 1992 کے ورلڈ کپ میں جہاں وقار یونس کی غیر موجودگی میں عاقب جاوید کو وسیم اکرم کے ساتھ نئی گیند سے اننگز کا آغاز کرنا پڑا۔ انہوں نے یہ ذمہ داری احسن طریقے سے نبھائی اور دس میچز میں 11 کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

نیوزی لینڈ کے جارح مزاج اوپنر مارک گریٹ بیچ کو سلو بال پر آؤٹ کرنا ہو، یا پھر فائنل میں مخالف ٹیم کے کپتان گراہم گوچ کا ناقابل یقین کیچ۔ عاقب جاوید نے اپنی کارکردگی سے سب کو حیران کیا۔

آج کل وہ پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز لاہور قلندرز کے ساتھ بحیثیت ڈائریکٹر کرکٹ آپریشنز اور ہیڈ کوچ منسلک ہیں۔ اس سے قبل وہ قومی ٹیم کے بالنگ کوچ بھی رہ چکے ہیں۔ 2012 سے 2016 تک وہ متحدہ عرب امارات کی ٹیم کے بحیثیت کوچ خدمات انجام دے چکے ہیں۔

مشتاق احمد

لیجنڈری لیگ اسپنر عبدالقادر کی کمی کو پورا کرنے کے لیے عمران خان فرسٹ کلاس کرکٹرز اقبال سکندر اور مشتاق احمد کو اسکواڈ کے ساتھ لے گئے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے میچ میں جب اقبال سکندر کو مشتاق احمد پر ترجیح دی گئی تو شائقین کرکٹ نے کپتان کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا۔

جب مشتاق احمد کو موقع دیا گیا تو جیسے مخالف ٹیم کے بلے بازوں کی شامت آ گئی ہو۔ ان فارم کیوی بلے باز اینڈریو جونز کا یادگار ایل بی ڈبلیو ہو یا پھر گراہم ہک کا، مشتاق احمد کی جادوئی بالنگ سب کی سمجھ سے باہر تھی۔

انہوں نے صرف 9 میچز میں 16 کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے اپنی سلیکشن کو درست ثابت کیا۔ وسیم اکرم کی 18 وکٹوں کے بعد وہ ایونٹ میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے دوسرے بالر تھے۔

ریٹائرمنٹ کے بعد وہ کئی عرصے تک انگلینڈ میں کاؤنٹی کرکٹ کھیلتے رہے بعد میں انگلش ٹیم کے اسپن بالنگ کوچ بھی رہے۔ ان ہی کے دور میں انگلینڈ کے پاس گریم سوان جیسے منجھے ہوئے بالرز آئے اور دنیا پر راج کیا۔

مشتاق احمد پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیموں کے ساتھ بھی بطور کوچ منسلک رہے اور وہ ان دنوں بھی پاکستان ٹیم کے ساتھ بحیثیت اسپن بالنگ کوچ خدمات پیش کر رہے ہیں۔

انجری کے باعث ورلڈ کپ اسکواڈ کا حصہ نہ بننے والے کھلاڑی

سن 1992 میں دنیا کے تیز ترین فاسٹ بالر وقار یونس تھے۔ شائقین جنوبی افریقہ کے ایلن ڈونلڈ سے ان کا موازنہ کرنے کے لیے بے چین تھے لیکن ایونٹ سے چند روز قبل زخمی ہونے کی وجہ سے انہیں اسکواڈ سے باہر کیا گیا۔

قومی کرکٹ ٹیم کو ایک اور دھچکہ سعید انور کی صورت میں بھی لگا جو انجری کی وجہ سے ورلڈ کپ میں شرکت نہ کر سکے۔

دونوں کھلاڑیوں کے کیرئیر میں کئی اور فتوحات تو ہیں۔ لیکن ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم کا حصہ بننا شاید ان کی قسمت میں نہیں تھا۔