Aaj TV News

BR100 4,687 Decreased By ▼ -28 (-0.59%)
BR30 18,641 Decreased By ▼ -617 (-3.2%)
KSE100 45,612 Decreased By ▼ -151 (-0.33%)
KSE30 17,942 Decreased By ▼ -56 (-0.31%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,333,521 5,034
DEATHS 29,029 10
Sindh 505,930 Cases
Punjab 454,372 Cases
Balochistan 33,729 Cases
Islamabad 111,855 Cases
KP 182,419 Cases

سوشل میڈیا پر ایک کلپ زور و شور سے وائرل ہورہا ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ صوبائی وزیراطلاعات فردوس عاشق اعوان نے پیپلز پارٹی کے رہنما عبدالقادر مندو خیل کو ایک ٹی وی شو کے دوران بحث میں گرما گرمی ہونے کے بعد تھپڑ جڑ دیا اور ساتھ ہی غلیظ قسم کی گالی بھی دے ڈالی۔

لڑائی ہونے کے بعد شو کو آف ایئر کر دیا گیا مگر فریقین کے درمیان لڑائی عروج پر پہنچ گئی اور دونوں نے ایک دوسرے کو غلیظ گالیاں اور دھمکیاں بھی دیں، جبکہ فردوس عاشق اعوان نے عبدالقادر مندوخیل کے منہ پر زور دار تھپڑ دے مارا اور فریق دوم نے بھی فردوس عاشق اعوان کا بازو مروڑ ڈالا۔

اسی حوالے سے فردوس عاشق اعوان کا بیان بھی سامنے آگیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے عبدالقادرمندو خیل نے وقفے کے دوران نہ صرف مجھے گالیاں دیں بلکہ میرے مرحوم والد کو بھی برا بھلاکہا۔ انہوں نے نہ صرف مجھے ہراس کیا، دھمکی دی بلکہ میرے والد کو گالیاں دیں اور مجھے شدید دھمکیاں بھی دیں۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ اس وقت سوشل میڈیا پر جو ویڈیو وائرل ہے وہ مکمل نہیں ہے بلکہ میں چینل سے گزارش کروں گی کہ پوری ویڈیو شیئر کی جائے تاکہ عوام تک یہ حقائق پہنچیں کہ مجھے کس طرح سے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیا گیا۔

صوبائی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ عبدالقادر نے مسلسل میرے خلاف فحش زبان استعمال کی اور میرے والد کے خلاف نازیبا الفاظ بھی استعمال کیے۔ مندوخیل کی جانب سے اس قسم کے الفاظ استعمال کرنے اور دھمکیاں دینے کی بنا پر میں نے سیلف ڈیفنس میں انتہائی قدم اٹھایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں اپنے قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد 62 اور 63 کے تحت نہ صرف وومن ہراسمنٹ بلکہ ہتک عزت کے کیس کے حوالے سے بھی فیصلہ کروں گی کیونکہ قانونی چارہ جوئی کرنا میرا حق ہے۔

ٹوئٹر/فردوس عاشق اعوان

واضح رہے کہ رمضان المبارک کے مہینے میں بھی سیالکوٹ کے اتوار بازار کے وزٹ کرنے کے دوران بھی فردوس عاشق اعوان نے ناقص اور گلے سڑے پھل دکان پر موجود ہونے کی بنا پر غصے ہو کر وہاں کی لیڈی اسسٹنٹ کمشنر کو نہ صرف کھری کھری سنا دی تھیں، بلکہ انہیں بھی گالیوں سے خوب نوازا تھا۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر فردوس عاشق اعوان کے خلاف خوب ٹرینڈ بھی چلایا گیا تھا۔