Aaj News

نائٹ شفٹ کرنے والوں میں امراضِ قلب کا خطرہ

طبی جریدے یورپین ہارٹ جرنل کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا ہے کہ...
شائع 23 اگست 2021 02:35pm
رات کے اوقات میں کام کرنے والوں میں دل کی دھڑکن کی رفتار غیرمعمولی حد تک بڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے
رات کے اوقات میں کام کرنے والوں میں دل کی دھڑکن کی رفتار غیرمعمولی حد تک بڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے

طبی جریدے یورپین ہارٹ جرنل کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا ہے کہ نائٹ شفٹ میں کام کرنے والے افراد میں دل کی بیماریوں کا خطرہ دیگر افراد کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق جو لوگ رات کے اوقات میں کام کرتے ہیں ان میں دل کی دھڑکن کی رفتار غیرمعمولی حد تک بڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جو لوگ اپنی زندگی کا زیادہ وقت نائٹ شفٹ میں کام کرتے ہوئے گزارتے ہیں ان میں دل کی دھڑکن کی اس خاص قسم کی بیماری "ایٹریل فبریلیشن" کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق کے لیے دن اور رات کی شفٹوں میں کام کرنے والے صحت مند افراد کی جانچ کی گئی تھی۔ جس کے لیے 2 لاکھ 8 ہزارافراد کے ڈیٹا کو موازنہ کیا گیا۔

جو لوگ مستقل بنیادوں پر رات کی شفٹوں میں کام کرتے ہیں ان میں دن میں کام کرنے والوں کی نسبت دل کے امراض کا خطرہ 12 فیصد بڑھ جاتا ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ نائٹ شفٹ کا دورانیہ کم کرکے اس خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے۔

اس سے قبل مارچ 2021 میں واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی ہیلتھ سائنسز کی ایک تحقیق میں بھی نائٹ شفٹ کے خطرناک اثرات کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا۔

ٹیم کی ریسرچ میں بتایا گیا تھا کہ نائٹ شفٹ میں کام کرنے والے افراد میں کینسر کی مخصوص اقسام کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

Health Risk

Comments are closed on this story.