Aaj TV News

BR100 4,979 Decreased By ▼ -47 (-0.94%)
BR30 24,460 Decreased By ▼ -313 (-1.26%)
KSE100 46,636 Decreased By ▼ -284 (-0.61%)
KSE30 18,480 Decreased By ▼ -178 (-0.95%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,218,749 2,928
DEATHS 27,072 68
Sindh 448,658 Cases
Punjab 419,423 Cases
Balochistan 32,707 Cases
Islamabad 103,720 Cases
KP 170,391 Cases

حکومتِ پاکستان کی جانب سے مانع حمل ادویات کے استعمال سے متعلق معاشرتی بدنامی کے حوالے سے ایک اشتہار جاری کیا گیا ہے۔ جس میں ملک کی بڑھتی آبادی اور ماں اور بچے کی صحت کے پیش نظر مانع حمل ادویات اور اشیاء کے استعمال کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے عوامی خدمت کے اس اعلان (PSA) کو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شئیر کیا ہے، ساتھ ہی لکھا، 'ملکی صحت کا ماں اور بچے کی صحت سے بہت گہرا تعلق ہے۔ بحیثیت قوم جو چیزیں اہم ہیں انہیں ترجیح دینی چاہیئے۔ خوشحالی کیلئے خاندان کا صحیح انتظام کریں۔ بچوں کی تعداد کا خیال رکھیں۔ اچھی صحت کو یقینی بنائیں۔ اس موضوع کو نظر انداز نہیں کریں بلکہ اس پر گفتگو کریں اور پیغام کو پھیلائیں۔'

پبلک سروس میسیج کے اختتام پر ایک ہیلپ لائن نمبر (1117-0800) بھی دیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر لوگ حکومت کے اس اقدام کو کافی سراہ رہے ہیں۔

ٹوئٹر ہینڈل لیمن فریش نے لکھا،'یہ واقعی قابل ستائش ہے۔ اب اگر یہ اسے ٹوئٹر سے باہر بھی لاگو ہوجائے تو یہ ایک بڑی جیت ہوگی۔'

خاور لکھتے ہیں،'میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار حکومت میں کسی کو اس مسئلے پر آواز اٹھاتے دیکھا ہے۔'

معروف صحافی ریما عمر نے کہا،'اتنا اہم پیغام اتنی مؤثر طریقے سے پہنچایا گیا۔ اگر ہم مانع حمل ، خاندانی منصوبہ بندی ، اور عمومی طور پر جنسی اور تولیدی صحت کے خلاف ممنوعات کو چیلنج کرنا چاہتے ہیں تو حکومت کو ضرور رہنمائی لینی چاہیے۔'

صحافی برادری سے تعلق رکھنے والی ایک اور ہستی ریما خورشید نے لکھا،'خاندانی منصوبہ بندی پر حکومت کی طرف سے بہترین، انتہائی ضروری عوامی خدمت کا پیغام۔ امید ہے کہ یہ تمام ٹی وی چینلز پر باقاعدگی سے نشر ہوگا اور پاکستان میں جنسی اور تولیدی صحت کے بارے میں بات کرنے کے لیے راستے کھولے گا۔'

خوبصورت خاتون نامی ٹوئٹر ہینڈل کی جانب سے ٹوئٹ کیا گیا کہ، 'یہ اتنا اچھا ہے۔ مجھے امید ہے کہ ہم اسے اپنے تمام ٹی وی چینلز پر پرائم ٹائم میں چلائیں گے۔'

ایک طرف جہاں حکومتی اقدام کو سراہا جارہا ہے، وہیں اس پر تنقید بھی کی جارہی ہے۔