Aaj TV News

BR100 4,381 Decreased By ▼ -20 (-0.46%)
BR30 16,863 Decreased By ▼ -630 (-3.6%)
KSE100 43,233 Decreased By ▼ -1 (-0%)
KSE30 16,718 Increased By ▲ 20 (0.12%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,286,022 391
DEATHS 28,753 8
Sindh 476,233 Cases
Punjab 443,310 Cases
Balochistan 33,491 Cases
Islamabad 107,811 Cases
KP 180,194 Cases

وفاقی وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے وزیرمملکت اطلاعات فرخ حبیب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ کچھ روز میں گھی کی قیمت 300 روپے فی کلو سے نیچے آجائے گی، ساڑھے 12 ملین گھرانوں کو ڈائریکٹ فوڈ سبسڈی دی جائے گی جبکہ چینی 90 روپے تک فروخت کی جاسکے گی۔

وفاقی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ 30 سال کی کوتاہیوں کی وجہ سے ہمارا انحصار امپورٹ پر رہا، تاہم اب صورتحال بہتری کی جانب گامزن ہے۔ کسان کو فصل کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے دیئے جائیں گے جبکہ پنجاب سمیت پورے ملک کے ہرگھرانے کو صحت کارڈ دیئے جائیں گے۔

وزیرخزانہ شوکت ترین کی جانب سے چینی 90 روپے فروخت کی خوشخبری پر سوال اٹھتا ہے کہ وزیرخزانہ کے بتائے ہوئے نرخ پر چینی کی فروخت کیسے ممکن ہے؟

عالمی مارکیٹ میں 29 ستمبر 2021 کو چینی کی قیمت 502 ڈالر میٹرک ٹن تھی جو یکم اکتوبر 2021 تک 512 ڈالر میٹرک ٹن تک پہنچ گئی۔

چینی کی خرید کے لئے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کا ادارہ بولیاں وصول کرتا ہے، رواں ماہ چینی کی سب سے کم قیمت 692 ڈالر فی میٹرک ٹن کی بولی لگائی گئی تھی، فی الحال چینی کی فی کلو قیمت 100 روپے ہے اور اگر اس میں سب سے کم قیمت کی بولی لگانے والے کو منظور کرلیا جائے تو بھی چینی کی فی کلو قیمت 123 روپے ہوجائے گی۔

تو وزیرخزانہ شوکت ترین کا چینی 90 روپے فروخت کا دعویٰ کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔