Aaj TV News

BR100 4,381 Decreased By ▼ -20 (-0.46%)
BR30 16,863 Decreased By ▼ -630 (-3.6%)
KSE100 43,233 Decreased By ▼ -1 (-0%)
KSE30 16,718 Increased By ▲ 20 (0.12%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,286,453 431
DEATHS 28,761 8
Sindh 476,494 Cases
Punjab 443,379 Cases
Balochistan 33,491 Cases
Islamabad 107,848 Cases
KP 180,254 Cases

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال کیخلاف توہین عدالت کی درخواست خارج کر دی ، جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ہم نیب کے کام میں مداخلت نہیں کر سکتے، عدالت کسی کے کہنے پر سیاسی رہنماء یا وفاقی وزیر کیخلاف نیب کو انکوائری کا حکم نہیں دے سکتی۔

جسٹس عمر عطا ءبندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے چیئرمین نیب کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ نیب نے مئی 2020 میں خسرو بختیار کیخلاف انکوائری مکمل کرنے کا بیان لاہور ہائیکورٹ میں دیا، 3ماہ میں انکوائری مکمل نہ کرکے نیب نے توہین عدالت کی۔

جس پر جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ قانون میں کہاں لکھا ہے کہ انکوائری مکمل نہ ہونے پر توہین عدالت لگے گی؟ لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں خود کہا ہے کہ ان کی توہین نہیں ہوئی، سپریم کورٹ کیسے کہہ دے کہ توہین عدالت ہوئی ہے؟۔

جسٹس عمر عطا ءبندیال نے کہا کہ ہم نیب کے کام میں مداخلت نہیں کر سکتے،عدالت کسی کے کہنے پر سیاسی رہنما ءیا وفاقی وزیر کیخلاف نیب کوانکوائری کا حکم نہیں دے سکتی۔

عدالت عظمیٰ نے چیئرمین نیب کیخلاف توہین عدالت کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے کرخارج کر دی۔

شہری احسن عابد کی جانب سے وفاقی وزیر خسرو بختیار کیخلاف کرپشن تحقیقات نہ کرنے پر چیئرمین نیب کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی۔