Aaj.tv Logo

اسلام آباد:توشہ خانہ تحائف کیس کی سماعت کرنے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کا آبائی گھر میوزیم میں تبدیل کرنے کا امکان ہے۔

توشہ خانہ تحائف کیس کی سماعت کرنے والے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کیخلاف حکومت نے انوکھا اقدام اٹھالیا۔

خیبر پختونخوا حکومت نے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی سوات میں آبائی رہائش گاہ کو ایکوائر کرنے کی کارروائی شروع کر دی۔

خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹوریٹ آف آرکیالوجی اینڈ میوزیم نے ڈپٹی کمشنر لینڈ ایکوزیشن کلیکٹر کو خط لکھ دیا۔

صوبائی محکمہ آثار قدیمہ کے ڈپٹی کمشنر لینڈ ایکوزیشن کلیکٹر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ والی سوات نے پورے زندگی لوگوں کی بہبود کے کاموں میں گزاری،والی سوات نے اپنی زندگی خطے کے عوام میں علم کا شعور دینے سمیت اسکولز، اسپتال اور سڑکیں تعمیر کرانے میں گزاری، ان کی رہائش گاہ اہم ورثہ ہے جس کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں،اس ورثہ کی حفاظت کی گئی تو یہ عمارت سوات میں سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، وادی سوات کے ورثہ کو بھی اجاگر کیا جا سکتا ہے، لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894 کی سیکشن فور کا نفاذ کر کے اسے جلد حاصل کیا جائے۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیل شہری کو فراہم کرنے کے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے آرڈر کیخلاف کابینہ ڈویژن کی درخواست پر سماعت کر رہے ہیں۔

فاضل جج نے گزشتہ سماعت پر ریمارکس دیئے تھے کہ وزیراعظم کو ملنے والے تحائف میوزیم میں رکھنے چاہئیں۔

توشہ خانہ کیس

حکومت نے پاکستان انفارمشنر کمیشن کے آرڈر کیخلاف ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے، پاکستان انفارمشن کمیشن نے وزیراعظم عمران خان کو ملنے والے تحائف کی انفارمیشن شہری کو فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔