Aaj.tv Logo

حکومت کی جانب سے رحمت العالمین اتھارٹی کے سربراہ ڈاکٹر اعجاز اکرم کی تعیناتی کے بعد نئے تنازعے نے جنم لیا ہے ، اور اعجاز اکرم کی تعیناتی پر سوشل پلیٹ فارم پر معروف شخصیات کی جانب سے تحظات کا اظہار کیا گیا ہے ۔

اعجاز اکرم کی تعیناتی سے متعلق اعلان وزیراعظم عمران خان کے ڈیجیٹل میڈیا کے فوکل پرسن ارسلان خالد نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ پر کیا ۔ ٹوئیٹ کے مطابق اعجاز اکرم کی تعیناتی تین سال کیلئے کی گئی ہے ۔

ٹوئیٹ میں اعجاز اکرم کی تعلیم سمیت انکو حاصل دیگر اعزازات کو بھی بیان کیا گیا ہے ۔

اعجاز اکرم کی تعیناتی پر سوشل پلیٹ فارم پر کئی صارفین اور معروف شخصیات نے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کئی سوشل صارفین نے اعجاز اکرم کی متنازعہ تقاریر کے ٹکڑے بھی ٹوئیٹر پر شیئر کیے ہیں ۔

ایک تقریر میں دکھایا گیا ہے کہ اعجاز اکرم اپنے خطاب میں کہتے ہیں پاکستان کے دشمن یہ سمجھتے ہیں کہ اس ملک کو تھوڑا تھوڑا کرکے ختم کیا جاسکتا ہےتاکہ آخر میں کچھ نہ بچے ۔ انہوں نے اپنے خطاب میں پشتون علاقوں میں پی ٹی ایم کی سرگرمی کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ یہ علاقے میں باغیانہ جذبات کو فروغ دے رہی ہے تاکہ اس علاقے کو چھینا جاسکے۔

اسہی نوعیت کے خیالات کا اظہار انہوں نے دو دیگر تحاریک سے متعلق بھی کیا تھا اور اعجاز اکرم کا موقف تھا کہ یہ تحاریک کی فنڈنگ پاکستان دشمن عناصر نے کی ہے ۔

انہوں نے اسہی طرح کے خیالات کا اظہار بھات سے متعلق بھی کیا اور بھارت کو پاکستان کا ازلی دشمن قرار دیا اور اسہی نوعیت کے خیالات وہ اسرائیل کیخلاف بھی رکھتے ہیں ۔ اور ان کا موقف ہے کہ وہ لوگ جو کہ پاکستان کیخلاف ہیں ، یہ افراد اسرائیل اور مغربی علاقوں میں مقیم ہیں اور عالمی یہودی ایجنڈے کا حصہ ہیں ۔

یہ ویڈیو مسلم انسٹی ٹیوٹ کے یوٹیوب پیج پر بھی موجود ہے اور اسکو صحافی فہاد دیسمکھ نے ٹوئیٹر پر شیئر کیا ہے ۔

اعجاز اکرم کی تقرری پر ریٹائرڈ انٹیلی جنس افسر عامر مغل نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے اور ایک ویڈیو اپنے ٹوئیٹر اکاونٹ پر شیئر کی ہے جس میں ان کو دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ پشتون، سندھی اور سرائیکیوں کو غیر ملکی فنڈنگ ملی ہے تاکہ وہ پاکستان مخالف سرگرمیاں کرسکیں ۔

ندا کرمانی نے بھی اعجاز اکرم کا ایک متنازعہ آرٹیکل اپنے اکاونٹ پر شیئر کیا ہے ، آرٹیکل میں اعجاز اکرم کا موقف ہے کہ فوج نے سویلین کو بہت زیادی اختیارات دے دیئے ہیں ۔

معروف صحافی عباس ناصر نے بھی اعجاز اکرم کی تعیناتی پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اعجاز اکرم کو وزیراعظم عمران خان نے انکے چھوٹے خیالات کو عالمی جریدوں میں پڑھ کر مقرر کیا ہوگا۔

ایسے میں ایک صارف نے بھی اعجاز اکرم سےتنقیدی سوال پوچھا کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار ٹی ایل پی اور ٹی ٹی پی سے متعلق بھی کریں ۔

تاہم بعض صارفین کا یہ بھی موقف تھا کہ اعجاز اکرم کا اپنے دوستوں اور طالبعلموں سے بھی رویہ اس وقت کافی عجیب و غریب رہا ہے جب وہ لمس یونیورسٹی میں پڑھا رہے تھے۔