Aaj News

جمعرات, فروری 29, 2024  
18 Shaban 1445  

رانا شمیم نے تاثر دیا ہائیکورٹ کے تمام ججز سمجھوتہ کرنے والے ہیں، اسلام آبادہائیکورٹ

اسلام آباد:سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم توہین عدالت کیس کی...
شائع 20 دسمبر 2021 12:34pm

اسلام آباد:سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ رانا شمیم نے تاثر دیا ہائیکورٹ کے تمام ججز سمجھوتہ کرنے والے ہیں، بادی النظر میں رانا شمیم نے بغیر شواہد بہت بڑا بیان دے دیا، اظہار رائے کی آزادی کی بہت اہمیت ہے، بنیادی حقوق متاثر ہوں تو آزادی پر استثنیٰ ختم ہوتا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم بیان حلفی کی خبرپرتوہین عدالت کیس کی سماعت کی ، فریقین عدالت میں پیش ہوئے ۔

رانا شمیم کے وکیل لطیف آفریدی نے بیان حلفی عدالت میں جمع ہونے کا بتاتے ہوئے کہا کہ رانا شمیم پہلے دن والے بیان پر قائم ہیں،اصل بیان حلفی سیل کیاہواتھا اوراب عدالت کےحکم پرلائے ہیں ۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ لفافہ سربمہر اسی حالت میں موجود ہے، ابھی تک نہیں کھولا، اگر چاہیں تو کھول سکتے ہیں، تاہم چاہتے ہیں سربمہرلفافہ آپ خود کھولیں،اٹارنی جنرل نےکہا کہ میڈیا کاکردارثانوی ہے، رانا شمیم نےمانا کہ اخبارمیں جولکھاگیا وہ ان کےبیان حلفی میں موجود ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ رانا شمیم نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے تمام ججز کو مشکوک کردیا ، عدالت واضح کرچکی کہ تنقید سے کوئی گھبراہٹ نہیں ہے، یہ اوپن انکوائری ہے،یہ ہمارا احتساب ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے مزیدکہا کہ بادی النظرمیں رانا شمیم نےبغیرشواہد بہت بڑابیان دے دیا، رانا شمیم نےتاثردیا کہ ہائیکورٹ کےتمام ججزسمجھوتہ کرنے والے ہیں،کیا اس کورٹ کے کسی جج پر انگلی اٹھائی جا سکتی ہے۔

سیکرٹری جنرل پی ایف یو جے نے اظہار رائے کی آزادی پر توہین عدالت نہ لگنے کا مؤقف اپنایا تو چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ عدالت صحافی سے اس کی خبر کا ذرائع نہیں پوچھے گی تاہم جوعوامی رائے بنائی جارہی ہےاس کے کوئی ثبوت ہیں تو پیش کریں، اگرکچھ نہیں ہےتوعوام کا اعتماد اس عدالت سےختم نہیں کیاجانا چاہیئے، یہ عدالت قانون سے اِدھراُدھرنہیں جائےگی۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ آزادی اظہار رائے اہم ترین بنیادی حق ہے، اس عدالت نے اپنے فیصلوں میں لکھا کہ آزادی اظہاررائے جب پبلک انٹریسٹ سےمتصادم ہوجائے توصورتحال مختلف ہوتی ہے،بنیادی حقوق متاثر ہوں تو اظہار رائے کی آزادی پراستثنیٰ ختم ہوتا ہے ۔

بعدازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 28 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

IHC

اسلام آباد

Contempt of Court

Chief Justice Athar Minallah

Rana Shamim

ex cheif judge GB

Comments are closed on this story.

تبصرے

تبولا

Taboola ads will show in this div